مشرقی یروشلم سے لوگوں کی بے دخلی، فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی اتھارٹی نے حال ہی میں متعدد خاندانوں کو مشرقی یروشلم میں ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کی مذمت کی ہے اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ نقلِ مکانی روکنے کے لیے "مضبوط اقدامات" کرے۔

اے ایف پی کے صحافیوں نے دیکھا کہ بدھ کے روز اسرائیل کے زیرِ قبضہ مشرقی یروشلم میں محلہ سلوان میں کئی خاندانوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا گیا۔

سلوان کئی عشروں سے ایک ایسی پالیسی کا ہدف رہا ہے جو 1948 میں قیامِ اسرائیل سے قبل جائیداد سے محروم ہو جانے والے یہودیوں کو دوبارہ دعویٰ کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

انسانی حقوق کے اسرائیلی گروپ بتسلیم نے کہا کہ بے دخلی "نقلِ مکانی کی ایک بڑی لہر کا آغاز تھی جس سے تقریباً 2,200 افراد متاثر ہوئے" اور اس پالیسی کا حصہ تھی جس کا مقصد "محلے کو یہودی بنانا" تھا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی وافا کے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں فلسطینی اتھارٹی کی وزارتِ خارجہ نے "اسرائیلی قابض حکام کی طرف سے جبری بے دخلی کے اقدامات میں اضافے کی مذمت کی۔"

اتھارٹی نے کہا کہ 15 خاندانوں کو قدیم یروشلم کے جنوب میں پہاڑی چوٹی کے محلے سے بے دخل کر دیا گیا۔

اس نے بین الاقوامی برادری سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ "فلسطینی عوام کے خلاف جبری بے دخلی کا تسلسل روکنے کے لیے ٹھوس اور زیادہ فیصلہ کن اقدامات کرے۔"

اسرائیلی حکام نے حالیہ برسوں میں بڑی تعداد میں فلسطینی خاندانوں کو علاقے سے بے دخل کیا ہے جبکہ مزید خاندان بے دخلی کے احکامات نافذ ہونے کے منتظر ہیں۔

سینکڑوں آبادکار سلوان میں تقریباً 50,000 فلسطینیوں کے درمیان رہتے ہیں جن کی موجودگی بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہے۔

محلے میں ان کی موجودگی 1980 کے عشرے سے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں