نیتن یاہو پر دباؤ اسرائیلیوں نے ایران جنگ کو ناکام قرار دے دیا: سروے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

ایران کے خلاف جاری جنگی محاذ پسِ پردہ چلتے سفارتی مذاکرات اور خطے میں بڑھتی کشیدگی اسی ہنگامہ خیز پس منظر میں سامنے آنے والا ایک نیا سروے اسرائیلی سیاست میں ہلچل مچا گیا۔ نتائج نے نہ صرف عوامی بے چینی کو آشکار کیا بلکہ وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی پالیسیوں پر بھی بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے، جس سے ان کی قیادت ایک بار پھر دباؤ میں آ گئی ہے۔

ہفتہ وار رائے شماری

رائے شماری کے نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ عوام کی بڑی اکثریت ایران اور لبنان دونوں کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے حامی ہیں۔

اسرائیلی چینل 12 کی جانب سے جاری کردہ نتائج کے مطابق 60 فیصد اسرائیلی ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے حق میں ہیں، جبکہ حکمران دائیں بازو کے اتحاد کے حامیوں میں یہ شرح بڑھ کر 85 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔

دوسری جانب 29 فیصد اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ جنگ اب ختم کر دینی چاہیے، جبکہ 11 فیصد نے "نہیں معلوم" کا جواب دیا۔

لبنان کے خلاف جنگ کے حوالے سے 67 فیصد اسرائیلی اس کے تسلسل کے حامی ہیں، جبکہ صرف 22 فیصد اسے فوری ختم کرنے کے حق میں ہیں۔

اسی طرح فوج کے سربراہ ایال زامیر کو 10 میں سے 7اعشاریہ3، جبکہ موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا کو 7اعشاریہ1 نمبر دیے گئے۔

اس کے برعکس وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو صرف 5اعشاریہ6، وزیر دفاع اسرائیل کاتز کو 5 اور وزیر خزانہ سموٹریچ کو 3 نمبر ملے۔

کامیابی کے معیار کے حوالے سے 52 فیصد اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ ایرانی نظام کا خاتمہ ایک بڑی کامیابی ہوگا، جبکہ 49 فیصد کے نزدیک افزودہ یورینیم کی تباہی یا ضبطی کامیابی تصور ہوگی۔

مزید یہ کہ 42 فیصد نے ایران کے ہتھیاری اور میزائل پروگرام کو شدید نقصان پہنچانے کو "فتح" قرار دیا، جبکہ 6 فیصد کے مطابق آبنائے ہرمز کا کھلنا کامیابی ہوگی اور 10 فیصد نے لاعلمی کا اظہار کیا۔

نیتن یاہو پریشان، مخالف آوازیں متحرک

تاہم یہ نتائج اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے لیے اطمینان بخش نہیں رہے۔ نیتن یاہو کے قریبی ایک سیاسی ذریعے کے مطابق وہ ان نتائج پر شدید تشویش کا شکار ہیں، کیونکہ وہ انہیں اس بات کا ثبوت سمجھتے ہیں کہ اسرائیلی عوام ایران کے خلاف مہم کی کامیابی سے قائل نہیں اور نہ ہی انہیں اس کی قیادت میں کامیاب تصور کرتے ہیں، جیسا کہ اسرائیلی چینل 12 نے رپورٹ کیا۔

چینل کے مطابق نیتن یاہو اب اس حقیقت کو سمجھنے لگے ہیں کہ عوامی حمایت کے باوجود لوگ حکومت کے بار بار کیے جانے والے بڑے دعوؤں پر یقین نہیں رکھتے، بلکہ ان کی جنگی حکمتِ عملی کو منفی انداز میں دیکھ رہے ہیں۔

ادھر سابق وزیرِاعظم اور آئندہ انتخابات میں مضبوط امیدوار نفتالی بینیٹ نے ان نتائج کو نیتن یاہو پر تنقید کے لیے استعمال کیا۔

انہوں نے کہا: وہ کام شروع کرنا تو جانتے ہیں، مگر انہیں ختم کرنا نہیں آتا۔

بینیٹ نے مختلف میڈیا انٹرویوز میں کہا کہ حکومت نے ایران کے خلاف جنگ کے واضح اہداف مقرر کیے تھے، جن میں اس کے جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ، بیلسٹک میزائل نظام کو تباہ کرنا اور ایرانی محور سے وابستہ نیٹ ورک کو ختم کرنا شامل ہے۔

ان کے مطابق اگر یہ اہداف حاصل ہو جائیں تو یہ بڑی کامیابی ہوگی، بصورتِ دیگر کچھ بھی نہیں بدلے گا۔

انہوں نے مزید کہا: نیتن یاہو جیتنا نہیں جانتے، نہ ہی غزہ میں، جہاں وہ دس بار فتح کا اعلان کر چکے ہیں، لیکن اب بھی حماس کے 30 ہزار ایلیٹ جنگجو موجود ہیں۔ وہ مضبوط ہو رہے ہیں جبکہ ہم امدادی ٹرک اندر بھیج رہے ہیں۔

حزب اللہ کے بارے میں انہوں نے کہا: شمالی محاذ پر حزب اللہ اپنی طاقت بحال کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے، جبکہ ہم ابھی تک کریات شمونہ کی بحالی نہیں کر سکے۔

نیتن یاہو، کاٹزاور سموٹریچ کہتے ہیں کہ ہم نے حزب اللہ کو 30 سال پیچھے دھکیل دیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ شمالی علاقہ اب بھی نظرانداز ہے اور ہم پر روزانہ سینکڑوں راکٹ برس رہے ہیں۔

آخر میں بینیٹ نے کہا: یہی نیتن یاہو کی اصل حقیقت ہے: وہ فیصلے نہیں کر پاتے، شروع کرنا جانتے ہیں مگر انجام تک نہیں پہنچتے۔ وہ ہچکچاہٹ کا شکار ہیں اور ایک مفلوج حکومت چلا رہے ہیں جس کے پاس کسی مسئلے کا حل نہیں۔

ایران کا ردعمل

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس رائے شماری میں اس امکان کا بھی جائزہ لیا گیا کہ اگر آج کنیسٹ کے انتخابات ہوں تو سیاسی جماعتوں کی پوزیشن کیا ہوگی۔

نتائج کے مطابق بنیامین نیتن یاہو کی قیادت میں "لیکوڈ" پارٹی اس ہفتے ایک نشست کھو کر 27 نشستیں حاصل کر پائے گی۔

یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب میدانِ جنگ میں صورتحال مسلسل کشیدہ ہے۔ اسرائیل کی جانب سے درجنوں اہداف پر حملے جاری ہیں، جبکہ اس کے جواب میں ایران اور اس کے اتحادی اسرائیل اور خطے کے دیگر علاقوں پر میزائل داغ رہے ہیں۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے گزشتہ روز اشارہ دیا کہ یہ جنگ 2 سے 4 ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے، حالانکہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اس سلسلے میں تقریباً 2500 مزید میرین اہلکاروں کے ساتھ ساتھ 82ویں ایئر بورن ڈویژن کے ایک ہزار سے زائد تربیت یافتہ پیراٹروپرز کو بھی مشرقِ وسطیٰ بھیجا جا چکا ہے، جو حساس مقامات اور اسٹریٹجک ہوائی اڈوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں