جنوبی لبنان میں یونیفل میں شامل فوجی کی ہلاکت ... انڈونیشیا کی جانب سے مذمت
وزارت خارجہ کا تمام فریقوں پر لبنان کی خود مختاری کے احترام کے لیے زور
انڈونیشیا نے جنوبی لبنان میں واقع گاؤں عدشیت القصیر کے قریب اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یونیفیل) کے ایک اڈے پر گولہ باری کے نتیجے میں اپنے ایک فوجی کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے۔ انڈونیشیا کی وزارتِ خارجہ نے امن دستوں کو نشانہ بنانے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کا اعادہ کیا اور تمام فریقوں سے لبنان کی خود مختاری کے احترام کا مطالبہ کیا۔
انڈونیشیا کی وزارتِ خارجہ نے آج پیر کے روز سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا "حکومتِ انڈونیشیا 29 مارچ کو عدشیت القصیر کے قریب انڈونیشیائی بٹالین کے گرد و نواح میں ہونے والی بالواسطہ گولہ باری کے نتیجے میں اپنے ایک امن پسند فوجی کی ہلاکت اور تین دیگر کے زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کرتی ہے"۔
اس سے قبل یونیفیل نے اپنے ایک بیان میں بتایا تھا کہ جنوبی لبنان میں ان کے ایک ٹھکانے پر دھماکا خیز گولہ گرنے سے ایک فوجی ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوا ہے، تاہم ابھی تک گولے داغے جانے والے مقام کا تعین نہیں ہو سکا ہے۔
یونیفیل کے مطابق یہ واقعہ گذشتہ رات اسرائیل کے ساتھ سرحدی گاؤں عدشیت القصیر کے قریب پیش آیا، جہاں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان گذشتہ ایک ماہ سے شدید جنگ جاری ہے۔ یونیفیل نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی ذمے داریاں پوری کریں اور اقوام متحدہ کے اہل کاروں و املاک کی سلامتی کو ہر صورت یقینی بنائیں۔