اسرائیل کے ایران پر حملے جاری ہیں۔ پیر کی شام ایران کے کئی مقامات پر دھماکوں کی ایک سیریز سنائی دی۔ ایک طرف تہران اور دوسری طرف واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان جنگ جاری ہے۔ ایرانی میڈیا نے تہران میں مہر آباد کے جنوب میں تین دھماکوں کی اطلاع دی اور بتایا کہ دارالحکومت کے مشرق میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا نے تہران کے مغرب میں اسلحہ کے ایک گودام کے علاوہ دارالحکومت میں ملت سکوائر کے ایک مقام اور شہر کے رجائی محلے میں ایک اور مقام پر بمباری کی بات کی ہے۔
ایرانی میڈیا نے بتایا کہ مشہد شہر اور اہواز کی بندرگاہ معشور میں بھی دھماکے ہوئے۔ اسی طرح اصفہان، تبریز، شہر رضا اور بندر عباس ایئرپورٹ کے شہروں کو بھی بیک وقت دھماکوں نے لرزا دیا۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے ایران پر حملوں کے دوران بحیرہ کیسپین کے ساحلوں کے قریب نصب ایرانی فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا ہے۔
ایک بیان میں کہا گیا کہ جن اہداف پر حملے کیے گئے وہ شمالی ایران کے ایک جنگلاتی علاقے میں بحیرہ کیسپین کے قریب واقع ہیں۔ یہ علاقہ اسرائیلی سرزمین سے 1600 کلومیٹر دور ہے۔ دوسری جانب ایرانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی مسلح افواج نے اسرائیلی دفاعی کمپنیوں ’’ ایلبیٹ سسٹم ‘‘ اور ’’ رافیل ‘‘ کی تنصیبات اور نوف ہگلیل کے صنعتی علاقے اور تل ابیب میں دفاعی و جارحانہ نظام کی تیاری و ترقی کے مرکز کے خلاف ڈرون حملوں کا ایک سلسلہ مکمل کیا ہے۔
اپنی طرف سے اسرائیلی فائر اینڈ ریسکیو اتھارٹی نے پیر کے روز کہا ہے کہ فائر کیے گئے ایک میزائل کے ٹکڑے، جسے روک لیا گیا تھا، شمالی اسرائیل میں حیفا کی ریفائنریز کمپنی سے وابستہ ایک مقام پر صنعتی تنصیب اور ایندھن کے ٹینک پر گرے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ میزائل ایران سے فائر کیا گیا تھا یا حزب اللہ کی طرف سے کیونکہ دونوں فریقوں نے ایک ہی وقت میں میزائل فائر کیے تھے۔
فائر اتھارٹی نے کہا ہے کہ اس نے جائے وقوعہ کے گردونواح میں پیٹرول کے ایک ٹینک پر براہ راست نشانہ بننے کا پتہ لگایا ہے جس کی وجہ سے قریبی تنصیب کی چھت سے شدید دھواں اٹھا۔ فائر اتھارٹی کے ایک اہلکار نے بیان دیا کہ ٹیمیں واقعے کو مکمل طور پر قابو کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ خطرناک مواد سے کوئی خطرہ نہیں ہے اور عوام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن نے بھی کہا ہے کہ اس واقعے سے پیداواری تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور ایندھن کی فراہمی متاثر نہیں ہوگی۔