برطانیہ کے سٹارمر کاآبنائے ہرمزدوبارہ کھولنےکےلیےزور،ایران جنگ میں برطانیہ کا کردار مسترد

جنگ اور تجارتی بندش سے ملک میں روزمرہ زندگی کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

برطانیہ اس ہفتے تقریباً 35 ممالک کے ایک اجلاس کی میزبانی کرے گا جس میں تجارتی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے طریقے پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا جو شرقِ اوسط جنگ کے باعث غیر فعال ہے، وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر نے بدھ کو اعلان کیا۔

انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا، اجلاس میں "تمام قابلِ عمل سفارتی و سیاسی اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا جو ہم جہاز رانی کی آزادی بحال کرنے، پھنسے ہوئے بحری جہازوں اور ملاحوں کے تحفظ کی ضمانت اور اہم اشیاء کی نقل و حرکت دوبارہ شروع کرنے کے لیے اٹھا سکتے ہیں۔"

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برطانیہ جاری تنازعہ میں حصہ نہیں لے گا، "یہ ہماری جنگ نہیں ہے۔ ہم تنازع کا حصہ نہیں بنیں گے۔ یہ ہمارے قومی مفاد میں نہیں ہے۔"

تجارتی تعطل کو برطانیہ میں زندگی کے اخراجات سے ملاتے ہوئے سٹارمر نے کہا، توانائی کے ایک اہم عالمی راستے آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا ملک میں اقتصادی دباؤ کم کرنے کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا، "برطانیہ میں زندگی کے اخراجات پورے کرنے کا مؤثر ترین طریقہ یہ ہے کہ شرقِ اوسط کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر زور دیا جائے۔"

وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ برطانیہ کا نکتۂ نظر کشیدگی کم کرنے اور آبی گذرگاہ کے ذریعے جہاز رانی مستحکم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں پر مرکوز ہو گا جو تیل، گیس اور دیگر اشیاء کی نقل و حمل کے لیے بہت ضروری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں