اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے کہا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ ایرانی فضائی حدود میں مکمل آزادی کے ساتھ کارروائیاں کر رہی ہے۔ بدھ کے روز اپنے بیان میں انہوں نے زور دیا کہ ایران کی میزائل داغنے کی صلاحیتوں کو کم کر دیا گیا ہے اور ایران کی قیادت کے سلسلے میں زیادہ تر شخصیات کو ختم کر دیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق 28 فروری کو جنگ کے آغاز سے اب تک ایرانی نظام کے 2000 سے زائد سپاہی اور کمانڈر مارے جا چکے ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والی اہم ایرانی شخصیات کی تفصیل درج ذیل ہے :
ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای :
جنگ کے پہلے ہی روز 28 فروری کو تہران پر ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایرانی مرشدِ اعلیٰ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے۔ وہ 1989 سے ملک کے اقتدار پر قابض تھے اور ان کا دورِ حکومت سکیورٹی نظام کی مضبوطی اور علاقائی اثر و رسوخ میں اضافے کے لیے جانا جاتا تھا۔
علی شمخانی اور محمد پاکپور :
مرشدِ اعلیٰ کے قریبی مشیر اور سکیورٹی و ایٹمی پالیسی ساز علی شمخانی بھی 28 فروری کے حملوں میں مارے گئے۔ اسی روز پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور بھی تہران میں ایک حملے کے دوران ہلاک ہوئے، جنہوں نے جون کی جنگ میں حسین سلامی کی ہلاکت کے بعد یہ عہدہ سنبھالا تھا۔
عزیز ناصر زادہ اور عبد الرحیم موسوی :
ایران کے وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ اور مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف عبد الرحیم موسوی بھی 28 فروری کو تہران میں قیادت کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران ہونے والے حملے میں مارے گئے۔ یہ دونوں شخصیات ایرانی دفاعی پالیسی اور فوجی ہم آہنگی میں کلیدی حیثیت رکھتی تھیں
علی لاریجانی :
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سابق سربراہ اور تجربہ کار سیاستدان علی لاریجانی 17 مارچ کو تہران کے علاقے باردیس میں ایک فضائی حملے میں اپنے بیٹے اور نائب سمیت جاں بحق ہوئے۔ وہ ایٹمی مذاکرات کی ٹیم کا حصہ رہے تھے اور مغربی مذاکرات کاروں کے ساتھ اچھے تعلقات کے لیے جانے جاتے تھے۔
اسماعیل خطیب اور غلام رضا سلیمانی :
ایرانی وزیرِ انٹیلی جنس اسماعیل الخطیب 18 مارچ کو ایک اسرائیلی حملے میں مارے گئے، جبکہ پاسدارانِ انقلاب کی ذیلی تنظیم 'بسیج' کے سربراہ غلام رضا سلیمانی 17 مارچ کو ہونے والے حملوں میں ہلاک ہوئے۔
دیگر اہم ہلاکتیں
گذشتہ ماہ 26 مارچ کو بندر عباس میں ایک اسرائیلی حملے کے دوران پاسدارانِ انقلاب کی بحری انٹیلی جنس کے سربراہ بہنام رضائی ہلاک ہوئے، جبکہ گذشتہ روز منگل کو ایرانی حکام نے مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کے مشیر جمشید اسحاقی کی ہلاکت کا اعلان بھی کیا۔
ان اعلیٰ سطح کی ہلاکتوں نے ایرانی قیادت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان عمان کی ثالثی میں مذاکرات جاری تھے اور جون 2025 کی 12 روزہ جنگ کے بعد خطے میں کشیدگی عروج پر تھی۔ ان واقعات نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی کی منڈیوں اور جہاز رانی کے راستوں کو بھی متاثر کیا ہے۔