تجویز کا جواب ... خامنہ ای کے قریبی شخص کی محمد جواد ظریف کو قتل کی دھمکی

تہران میں مقتدر حلقوں کے قریبی افراد نے سابق ایرانی وزیر خارجہ پر واشنگٹن کے لیے کام کرنے کا الزام عائد کیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران کے مقتول سابق مرشدِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے حامیوں میں شامل سعید حدادیان نے سابق ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے امریکی جریدے "فارن افیئرز" میں شائع ہونے والے مضمون کے جواب میں انہیں "جاسوس" قرار دے دیا ہے۔ حدادیان نے ظریف کو اپنی "غلطی تسلیم کرنے" کے لیے تین دن کی مہلت دیتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ بصورتِ دیگر انہیں "جنازے کے جلوس میں ان کے گھر لے جایا جائے گا"۔

آج ہفتے کے روز ایرانی نظام کے حامیوں کے سامنے خطاب کرتے ہوئے حدادیان نے سکیورٹی فورسز کو مخاطب کیا اور کہا "کیا آپ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ظریف اپنی پیشانی پر لکھیں کہ وہ امریکہ کے لیے (ایران کے) غدار ہیں؟" حدادیان کے اس خطاب پر حاضرین نے کئی بار بھرپور تالیاں بجائیں، تاہم بعض شرکاء کے اعتراض پر انہوں نے اپنی تقریر روک کر کہا: "جناب، آپ مداخلت نہ کریں، مجھے معلوم ہے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور کب کہنا ہے"۔

گذشتہ روز3 اپریل کو "فارن افیئرز" میں "ایران کو جنگ کیسے ختم کرنی چاہیے" کے عنوان سے شائع مضمون میں ظریف نے لکھا تھا "تہران کو اپنی برتری کا فائدہ جنگ جاری رکھنے کے لیے نہیں بلکہ فتح کے اعلان اور ایک ایسے معاہدے کے لیے اٹھانا چاہیے جو اس تنازع کو ختم کرے اور کسی دوسرے تنازع کو پیدا ہونے سے روکے۔ ایران تمام پابندیوں کے خاتمے کے بدلے اپنے ایٹمی پروگرام پر پابندیاں لگانے اور آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش کر سکتا ہے، یہ وہ معاہدہ ہے جسے واشنگٹن نے پہلے مسترد کر دیا تھا لیکن اب وہ اسے قبول کر سکتا ہے"۔

انہوں نے مزید لکھا "ایران کو ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے کے معاہدے پر آمادگی ظاہر کرنی چاہیے جس میں دونوں ممالک مستقبل میں ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے کا عہد کریں۔ وہ امریکہ کو ایسی اقتصادی شراکت داری کی پیشکش بھی کر سکتا ہے جس سے دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچے"۔

ظریف کے اس مضمون کو ایران میں جنگ کے حامیوں نے پسند نہیں کیا۔ پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھی جانے والی نیوز ایجنسی "فارس" نے مسعود اکبری کے مضمون میں لکھا "اس مضمون کا مواد پڑھ کر قاری یہ فیصلہ کرنے سے قاصر رہتا ہے کہ اس کا لکھنے والا ایرانی ہے یا امریکی!"۔

ادھر اخبار "کیہان" کے چیف ایڈیٹر اور بیت المرشد کے قریبی سمجھے جانے والے حسین شریعتمداری نے ان تجاویز کو "ایران کے دشمنوں کے سامنے جھکنے" کے مترادف قرار دیا اور عدلیہ سے ظریف کے محاسبے کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب ایران چین چیمبر آف کامرس کے رکن مجید رضا حریری نے ایکس پر سعید حدادیان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا "آپ کا یہ ماننا کہ ظریف جاسوس ہیں، ایک ذاتی رائے ہے اور یقینی طور پر غیر پیشہ ورانہ ہے۔ یہ درست بھی ہو سکتا ہے لیکن پیشہ ورانہ نہیں ہے۔ سکیورٹی ادارے اور عدالتیں ہی جاسوسوں کا تعین کرنے کے لیے واحد مجاز پیشہ ور ادارے ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں