امریکہ میں یمن کی پہلی خاتون سفیر کا تقرر
بوشہر ایٹمی پاور پلانٹ پر حملے حملہ آوروں کی ساکھ پر بد نما داغ ہیں: روس
یمنی سفارت کار جمیلہ علی رجاء نے ہفتے کے روز امریکہ میں یمن کی سفیر کے طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ اس کے ساتھ ہی وہ دونوں ملکوں کے تعلقات کی تاریخ کے سب سے اہم سفارتی مشن کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون بن گئی ہیں۔ یہ قدم فیصلہ سازی کے مراکز میں خواتین کو بااختیار بنانے کے حکومتی رجحان کی عکاسی کر رہا ہے۔ سعودی دارالحکومت ریاض میں حلف برداری کی تقریب کے بعد یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے نئی سفیر کی اولین ترجیحات میں یمن کے تنازع کے بارے میں حوثیوں کے گمراہ کن بیانیے کو بے نقاب کرنا بھی شامل کیا۔
العلیمی نے رجاء پر زور دیا کہ وہ واشنگٹن کی جانب سے حوثی گروپ کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے فیصلے کا فائدہ اٹھائیں تاکہ اس گروپ پر زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی دباؤ ڈالا جا سکے اور تنازع کے بارے میں تصورات کی تصحیح کی جائے۔ انہوں نے اسے محض سیاسی اختلاف کے بجائے ایک مسلح بغاوت قرار دیا۔
انہوں نے امریکی فنڈنگ کے بہاؤ کی بحالی اور معاشی بحالی کے پروگراموں کی حمایت کے لیے عطیہ دہندگان کے ساتھ اعتماد کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن میں مشن کا کام یمن کو ایک ایسی ریاست کے طور پر پیش کرنا ہے جو اپنے پڑوس کے ساتھ صلح جو ہے اور بغاوت ختم کر کے اپنے قومی اداروں کی بحالی چاہتی ہے۔
اس اعلیٰ عہدے پر جمیلہ علی رجاء کا تقرر فیصلہ سازی کے مراکز میں خواتین کو بااختیار بنانے کے وسیع تر حکومتی رجحان کا حصہ ہے جہاں حالیہ حکومتی تشکیل میں تین وزارتی قلمدان خواتین کو سونپے گئے ہیں ۔ اس اقدام کو مقامی اور بین الاقوامی سطح پر وسیع پزیرائی ملی ہے۔