ایران نواز مسلح گروپوں نے عراق میں سفارت کاروں کو قتل کرنے کی کوشش کی: امریکی سفارتخانہ
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کی چنگاریاں خطے کے دیگر ممالک تک پھیل چکی ہیں۔ بغداد میں امریکی سفارت خانے نے اعلان کیا ہے کہ تہران کے وفادار عراقی مسلح گروہوں نے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب عراق میں امریکی سفارتی تنصیبات پر دو حملے کیے ہیں۔
فرانس پریس ایجنسی کے مطابق سفارت خانے کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کے وفادار عراقی دہشت گرد گروہوں نے گزشتہ رات امریکی سفارت کاروں کو قتل کرنے کی کوشش میں امریکی سفارتی تنصیبات پر دو مزید گھناؤنے حملے کیے ہیں۔
I strongly condemn the heinous attacks by terrorist militias targeting the U.S. Consulate General and civilian areas in Erbil. These deliberate acts of aggression pose a grave threat to the security and stability of the Kurdistan Region, Iraq, and the wider region. This is…
— Masrour Barzani (@masrourbarzani) April 5, 2026
دوسری جانب کردستان کی علاقائی حکومت کے وزیر اعظم مسرور بارزانی نے اربیل میں امریکی قونصل خانے اور سویلین علاقوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں گھناؤنا اور دانستہ جارحانہ فعل قرار دیا جو عراق اور خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
مسرور بارزانی نے زور دیا کہ یہ حملے ایک بڑا خطرہ ہیں جنہیں کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا اور انہیں فوری طور پر روکنا ضروری ہے۔
حشد شعبی کے ٹھکانے پر حملہ
یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب اربیل کے علاقے میں رات کے وقت کئی حملے ہوئے جن میں امریکی قونصل خانے اور سویلین علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ پیش رفت حشد شعبی کے اس اعلان کے بعد ہوئی کہ بغداد کے شمال میں طوز خورماتو میں اس کے ایک ہیڈ کوارٹر پر حملہ ہوا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حشد شعبی کی شمالی اور مشرقی دجلہ آپریشن کمانڈ کے تحت بریگیڈ 52 کی چوتھی بٹالین کو آدھی رات کے وقت طوز خورماتو کے علاقے میں واقع الحلیوہ ایئرپورٹ پر دو فضائی حملوں کے ذریعے اسرائیلی-امریکی جارحیت کا نشانہ بنایا گیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
مسلح گروہوں کے ایک اتحاد "عراق میں اسلامی مزاحمت" نے کہا ہے کہ انہوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران عراق اور خطے میں امریکی اڈوں پر درجنوں ڈرونز کے ذریعے 19 کارروائیاں کی ہیں۔ خطے میں جنگ چھڑنے کے بعد سے عراقی فورسز کے تحت کام کرنے والے حشد شعبی کے کئی ٹھکانوں پر حملے ہوئے جن کا الزام امریکی فورسز پر لگایا گیا۔ اسی طرح کئی امریکی سفارتی مقامات اور فوجی اڈوں کو ایران کے حامی مسلح گروہوں کی جانب سے راکٹوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس کے جواب میں ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے شمالی عراق کے علاقے کردستان میں ایرانی کرد اپوزیشن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ عراقی حکومت نے تمام دھڑوں پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ملک کو خطے میں بھڑکتے ہوئے تنازع کی آگ میں نہ دھکیلیں۔
-
عراق میں حملے کے بعد غیر ملکی تیل کمپنیوں کے گودام میں آگ بھڑک اٹھی
عراق کے صوبہ بصرہ کے علاقے ''البرجسيہ ''میں غیر ملکی تیل کمپنیوں کے ذخیرہ گھروں ...
مشرق وسطی -
بغداد ایئرپورٹ پر بمباری، عراقی وزیرِ داخلہ نے سکیورٹی قیادت برطرف کردی
گرفتار کرنے کا بھی حکم، بمباری سے ایک فوجی مال بردار طیارے کے دائیں پر کو نقصان ...
مشرق وسطی -
بغداد ایئرپورٹ کے قریب عراقی فضائی اڈے پر میزائل حملہ، طیارہ تباہ
عراقی وزارت دفاع: "عراق کی سکیورٹی اور خود مختاری کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف ...
مشرق وسطی