ماکروں کا فائر بندی معاہدے کا خیر مقدم ، لبنان کو بھی شامل کیے جانے پر زور

اسرائیل ایران پر بم باری معطل کیے جانے کی حمایت کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس میں لبنان شامل نہیں ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں نے آج بدھ کے روز اپنے مشیروں اور کابینہ کے اراکین کے ساتھ دفاعی اجلاس کے آغاز پر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ لبنان میں صورت حال اب بھی نازک ہے۔ ساتھ اس بات پر زور دیا کہ اس معاہدے میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے آج بدھ کے روز کہا ہے کہ اسرائیل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر حملے دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے کے فیصلے کی حمایت کرتا ہے لیکن یہ جنگ بندی لبنان کے لیے نہیں ہے۔ نیتن یاہو کے دفتر نے مزید کہا کہ اسرائیل امریکی اقدام کی حمایت اس شرط پر کرتا ہے کہ تہران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھول دے اور امریکہ، اسرائیل اور خطے کے ممالک پر حملے بند کر دے۔

یہ بیانات واشنگٹن کی جانب سے تنازع کو کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں کے تحت ایران پر حملے دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں۔ اسرائیل نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ان امریکی کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تہران اب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے عرب پڑوسیوں کے لیے کوئی ایٹمی، میزائل یا "دہشت گرد" خطرہ نہ رہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ واشنگٹن نے اسرائیل کو مطلع کیا ہے کہ وہ آئندہ مذاکرات میں اپنے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے پُر عزم ہے۔

ایران نے آج بدھ کو کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات جمعہ 10 اپریل کو اسلام آباد میں شروع ہوں گے۔ وائٹ ہاؤس کے دو حکام نے اس سے قبل تصدیق کی تھی کہ اسرائیل دو ہفتوں کی جنگ بندی اور ایران پر بم باری کی مہم معطل کرنے پر راضی ہو گیا ہے، جبکہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے جنہوں نے اس معاہدے کی ثالثی میں مدد کی، ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ معاہدے میں لبنان میں اسرائیلی مہم کا خاتمہ بھی شامل ہے۔

لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 1500 افراد جاں بحق اور 12 لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں۔ لبنان اس وقت جنگ میں شامل ہوا جب حزب اللہ نے تہران کے ساتھ یکجہتی کے اظہار میں اسرائیل پر راکٹ داغے، جو اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملے کے آغاز کے دو دن بعد شروع ہوئے تھے۔ حزب اللہ کے حملے کا جواب اسرائیل کے نئے زمینی اور فضائی حملے کی صورت میں دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں