لبنانی علاقوں بالخصوص جنوب میں جمعرات کے روز بھی جاری رہنے والے اسرائیلی حملوں کے تناظر میں، جو گذشتہ روز کی خونریزی کے بعد بھی تھم نہ سکے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئیل بارو نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے عارضی جنگ بندی کے معاہدے میں لبنان کو لازمی شامل کیا جانا چاہیے۔
فرانس انٹ ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کو ناقابل قبول قرار دیا اور لبنانی حکام کی جانب سے آج منائے جانے والے یوم سوگ کے ساتھ فرانس کی یکجہتی کا اظہار کیا۔
لبنان کو قربانی کا بکرا نہ بنایا جائے
فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم ان شدید حملوں کی سخت مذمت کرتے ہیں جن میں صرف 10 منٹ کے اندر 250 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے۔ یہ ان 1500 متاثرین کے علاوہ ہیں جو اس تنازع میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جس کا آغاز حزب اللہ نے دو مارچ سنہ 2025ء کو اسرائیل کے خلاف کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ناقابل قبول حملے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی عارضی جنگ بندی کو کمزور کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جی ہاں! ایران کو چاہیے کہ وہ حزب اللہ کے ذریعے اسرائیل کو ڈرانا دھمکانا بند کرے اور حزب اللہ کے لیے بھی یہ ناگزیر ہے کہ وہ فوری طور پر ہتھیار ڈال دے اور انہیں لبنانی ریاست کے حوالے کر دے، لیکن لبنان کو کسی ایسی حکومت کے لیے قربانی کا بکرا نہیں بننا چاہیے جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی ہونے کی وجہ سے تذبذب کا شکار ہو۔
آبنائے ہرمز
آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر فیس عائد کرنے کے امکان کے بارے میں فرانسیسی وزیر نے واضح کیا کہ یہ ایک ناقابل قبول عمل ہے اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی پانیوں میں جہاز رانی کی آزادی ایک عوامی اور انسانی حق ہے جسے کسی بھی رکاوٹ یا فیس کے ذریعے محدود نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی اسے قبول نہیں کرے گا کیونکہ یہ غیر قانونی ہے اور بین الاقوامی پانی جہاز رانی کے لیے کھلے ہیں۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدھ کے روز اس مشترکہ منصوبے کے ذکر کے بعد سامنے آیا ہے جس میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظام کو فیس کے نظام کے تحت لانے کی تجویز دی گئی تھی۔
تباہ کن حملے
دوسری جانب برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے لبنان پر اسرائیلی بمباری کو انتہائی تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو بچانے کے لیے جنگ کا رکنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ لبنان جنگ بندی میں شامل ہو، ہم اس کا دائرہ کار لبنان تک بڑھانا چاہتے ہیں کیونکہ ایسا نہ ہونا پورے خطے کے استحکام کو داؤ پر لگا دے گا۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل نے گذشتہ روز اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ وہ حزب اللہ کو نشانہ بنانا جاری رکھے گا اور لبنان جنگ بندی کے معاہدے میں شامل نہیں ہے۔ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق گذشتہ روز لبنان پر کیے گئے حملوں میں حزب اللہ کے 220 ارکان ہلاک ہوئے جن میں کمانڈرز بھی شامل ہیں۔
یہ صورتحال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی ان نئی دھمکیوں کے بعد پیدا ہوئی ہے جن میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز کو کھولے اور جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہو جائے، ورنہ ان کے بقول پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور حملے اور جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی۔
یاد رہے کہ 28 فروری سنہ 2025ء کو خطے میں جنگ چھڑنے کے بعد سے آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کی تیل اور گیس کی ترسیل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے، ایرانی دھمکیوں کے باعث جہاز رانی کے لیے تقریباً مکمل مفلوج ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔