یمن میں ہیضے کی روک تھام ... ہنگامی رد عمل کے سعودی منصوبوں کی سرگرمیاں جاری
یہ ان انسانی اور امدادی کوششوں کا تسلسل ہے جو سعودی عرب کی جانب سے انجام دی جا رہی ہیں
یمن میں ہیضے کی روک تھام کے لیے ہنگامی رد عمل کے منصوبے نے شاہ سلمان مرکز برائے انسانی امداد و خدمات کے تعاون سے 25 سے 31 مارچ 2026 تک 5,909 افراد کو طبی خدمات فراہم کیں۔
فراہم کردہ خدمات میں عدن، سیئون اور ریان کے ہوائی اڈوں کے ساتھ ساتھ الوديعہ، الحافیہ اور رازح کی سرحدی گزرگاہوں پر ہیضے کی جانچ کے لیے جامع اسکریننگ شامل تھی، جس کے دوران ایک مشتبہ کیس رپورٹ ہوا۔
اس تناظر میں یہ منصوبہ وباء سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کو نشانہ بنانے، انفیکشن کی شرح کو کم کرنے اور ہیضے کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں جن میں فضائی اور زمینی گزرگاہوں پر مسافروں کی جانچ اور نگرانی کے لیے ماہر طبی ٹیموں کی تشکیل شامل ہے۔ مزید برآں یہ منصوبہ صحت کے مراکز کو ہیضے کے علاج کے لیے خصوصی طبی امداد فراہم کر رہا ہے، جس میں نسوں کے ذریعے اور منہ سے دیے جانے والے محلول (او آر ایس)، اینٹی بائیوٹکس، حفاظتی سامان اور جراثیم کش اشیاء شامل ہیں۔ ساتھ ہی ہیضے کے علاج کے مراکز میں بستروں کی گنجائش بھی بڑھائی جا رہی ہے تاکہ بڑھتے ہوئے کیسز سے نمٹا جا سکے۔
یہ کوششیں اس انسانی اور امدادی کردار کا تسلسل ہیں جو مملکت سعودی عرب ... شاہ سلمان مرکز برائے انسانی امداد و خدمات کے ذریعے یمن کے شعبہ صحت کی مدد، وبائی امراض اور متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے اور یمنی عوام کی صحت و سلامتی کے تحفظ کے لیے انجام دے رہی ہے۔