اسرائیل : نیتن یاہو نے لبنان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا حکم دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے جعمرات کے روز ایک حکم جاری کیا ہے کہ لبنان کے ساتھ ان کا ملک پر امن تعلقات قائم کرنے کے لیے اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے اگلے ہفتے مذاکرات کرے گا۔

امریکہ کی طرف سے اس بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ان امن مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ لبنان کی طرف سے کی جانے والی مسلسل درخواستوں کے بعد کیا گیا ہے جن میں اسرائیل سے براہ راست بات چیت کے لیے کہا گیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا موضوع حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور لبنان کے ساتھ پر امن تعلقات بحال کرنا ہے۔

اسرائیل نے لبنانی وزیراعظم کی طرف سے جمعرات کے روز اس مطالبے کی تعریف کی ہے جس میں لباننی وزیراعظم نے بیروت کو غیر مسلح علاقہ قرار دینے کا کہا ہے۔

اسرائیلی حکام نے 'اکسیوس' کو بتایا ہے کہ لبنان میں کوئی جنگ بندی نہیں کی گئی ہے۔ تاہم لبنانی حکومت کے ساتھ اگلے دنوں میں ہم مذاکرات شروع کر رہے ہیں۔

لبنان کم از کم 24 گھنٹوں سے اس امر کے لیے کوشاں ہے کہ اسرائیل اس کے خلاف جنگ بندی کرے۔ ایک سینیئر لبنانی ذمہ دار نے 'روئٹرز' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا لبنان پر جاری یہ حملے مختلف لہر ہیں۔ تاہم یہ ایک طرح کے حملے ہیں جو پاکستان کی کوششوں سے امریکہ و ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود جاری ہیں۔

اس لبنانی ذمہ دار نے مذاکرات کے لیے جگہ و تاریخ کا ذکر نہیں کیا۔ تاہم یہ کہا ہے کہ ان مذاکارات کے لیے ثالث اور ضمانت کار امریکہ ہوگا۔

مذاکارت سے متعلق امور سے باخبر ایک ذریعے کا کہنا ہے لبنانی وزیر اعظم نواف سلام اگلے ہفتے امریکی دورے پر جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب امریکی دفتر خارجہ نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ وہ اگلے ہفتے میں اسرائیل و لبنان کے مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے۔

خیال رہے امریکہ و ایران کے درمیان جنگ بندی کے اگلے ہی چند گھنٹوں میں اسرائیل کے لبنان پر خوفناک حملوں کے نتیجے میں کم از کم 400 لبنانی ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے یہ لبنانی حزب اللہ کے جنگجو تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں