العربیہ نے جمعہ کو اسرائیلی میڈیا ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی کہ ایک آن لائن میٹنگ نے مبینہ طور پر اسرائیل کی موساد کو ایک حزب اللہ کمانڈر کے مقام کا سراغ لگانے میں مدد دی جس سے بالآخر تقریباً 100 ارکان کی پوزیشنوں کی نشاندہی ہوئی۔
اسرائیل نے بدھ کے روز پورے لبنان میں وسیع پیمانے پر اور حیرت انگیز حملے شروع کیے تھے خاص طور پر بیروت میں جہاں بمباری کا دائرہ ان علاقوں تک پھیل گیا جو پہلے نسبتاً محفوظ سمجھے جاتے تھے۔ ان میں کورنیش المزرعۃ، تل الخیاط اور عین المریسہ شامل ہیں۔ یہ حملے بیک وقت 10 منٹ کے دوران کیے گئے جس میں تقریباً 300 افراد ہلاک اور 1500 سے زائد زخمی ہوئے۔
بیروت کے ساتھ ساتھ ملک کے جنوبی اور مشرقی حصوں کو بیک وقت نشانہ بنانے والے شدید اسرائیلی حملوں کے بارے میں لبنانی باشندوں میں زیرِ گردش افواہوں کی ایک لہر کے بعد میڈیا ذرائع نے مربوط بمباری کے بارے میں نئی تفصیلات کا انکشاف کیا۔
ذرائع نے مبینہ طور پر جمعہ کو بتایا کہ اسرائیل کی موساد نے آن لائن میٹنگ کی مدد سے حزب اللہ کی پوزیشنوں کی نشاندہی کی۔
انہی ذرائع کے مطابق یہ مقامات بیروت، مشرقی بقاع اور جنوبی لبنان تک پھیلے تھے۔ اس کے بعد اسرائیل نے 10 منٹ کے عرصے میں بیک وقت 100 سے زیادہ فضائی حملے کیے تھے۔
حزب اللہ کے تقریباً 200 ارکان کی ہلاکت
اسرائیلی فوج جس نے جمعرات کو کہا تھا کہ بدھ کے حملوں میں حزب اللہ کے تقریباً 200 ارکان ہلاک ہوئے، نے ان مخصوص تفصیلات کی تصدیق نہیں کی۔
حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی افواج نے بیروت اور اس کے مضافات کے ساتھ ساتھ جنوبی لبنان اور وادی بقاع پر شدید فضائی حملے کیے۔ اسرائیلی فوج نے درجنوں جنوبی سرحدی قصبات میں بھی دراندازی کی اور خبردار کیا ہے کہ وہ دریائے لیطانی کے جنوب میں 30 کلومیٹر گہرائی تک محیط بفر زون قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو لبنان کا تقریباً 10 فیصد علاقہ بنتا ہے۔