کویت پر حملے عراق سے کیے گئے: ذرائع کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

کویت پر ہونے والے حملوں کے بعد العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے آج جمعہ کے روز انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ روز جن ڈرونز نے نیشنل گارڈز کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی وہ عراق سے آئے تھے۔ ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

دوسری جانب العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ آج کویت کی فضائی حدود میں امن و سکون کی صورتحال ہے۔

ایران اور اس کی پراکسی

کویت نے گذشتہ روز ایران اور اس کے پراکسی تنظیموں پر ڈرون حملوں کا الزام عائد کیا تھا، باوجود اس کے کہ بدھ کی علی الصبح سے دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا جا چکا ہے۔

دوسری طرف پاسداران انقلاب نے گذشتہ روز خلیجی ممالک پر حملوں کی تردید کی ہے اور ان حملوں کا الزام "اسرائیل یا امریکہ" پر لگایا ہے۔

خطے میں ایک طرف ایران اور دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد سے ایرانی افواج خلیجی ممالک کی طرف تقریباً 6500 میزائل اور ڈرون داغ چکی ہیں، جن میں سے اکثر کو فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔ اس کے علاوہ تقریباً اتنی ہی تعداد میں اسرائیل کی طرف بھی حملے کیے گئے۔

ایرانی جانب نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس نے امریکی فوجی ٹھکانوں اور اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ عرصے کے دوران عراقی سرزمین سے ڈرون حملوں کے بعد کویت نے عراقی حکام کو احتجاجی مراسلے بھیجے تھے اور عراقی سفیر کو بھی طلب کیا تھا۔

یاد رہے کہ تہران کی حامی کئی عراقی تنظیمیں 28 فروری سنہ 2026ء کو ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد سے اس تنازع میں شامل ہیں اور وہ عراق سمیت خطے کے دیگر ممالک میں امریکی مفادات اور ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں