حزب اللہ کے گروہ نےچرچ کےربی کےقتل کی منصوبہ بندی کی..دمشق میں آپریشن ناکام بنانےکی تفصیل

شامی دارالحکومت میں ایک مذہبی شخصیت کو نشانہ بنانے کے لیے نصب کیا گیا دھماکہ خیز مواد ناکارہ بنا دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شامی وزارتِ داخلہ نے آج ہفتے کو اعلان کیا ہے کہ محکمہ انسدادِ دہشت گردی نے دمشق کے دیہی علاقے کی داخلی سکیورٹی کمانڈ کے تعاون سے دارالحکومت دمشق کی سکیورٹی کو نشانہ بنانے والا ایک تخریبی منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔

وزارت نے ایک بیان میں مزید بتایا کہ یہ آپریشن دارالحکومت کے اندر مشتبہ سرگرمیوں کی درست سکیورٹی نگرانی کا نتیجہ ہے۔

مخصوص یونٹس نے اس گروہ میں شامل ایک خاتون کا سراغ لگایا جو باب توما کے علاقے میں "مریميۃ" چرچ کے گرد و نواح میں ایک مذہبی شخصیت کے گھر کے سامنے دھماکہ خیز مواد نصب کر کے تخریبی کارروائی کی کوشش کر رہی تھی۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ بھرپور کوششوں اور فوری کارروائی کی بدولت سکیورٹی یونٹس خطرے کو ختم کرنے اور دھماکہ خیز مواد کو پھٹنے سے قبل ناکارہ بنانے میں کامیاب رہے، جس سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ اس کارروائی میں گروہ کے تمام 5 ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

حزب اللہ سے وابستہ گروہ

وزارت نے واضح کیا کہ ابتدائی تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ اس گروہ کا تعلق لبنان کی "حزب اللہ" تنظیم سے ہے اور اس کے ارکان نے ملک سے باہر خصوصی فوجی تربیت حاصل کی تھی، جس میں بم نصب کرنے کی مہارت بھی شامل ہے۔ تحقیقات ابھی جاری ہیں تاکہ کیس کے تمام پہلوؤں اور اس سے منسلک فریقوں کو بے نقاب کر کے انہیں متعلقہ عدالت میں پیش کیا جا سکے۔

دوسری جانب ایک سرکاری ذریعے نے "الحدث" کو انکشاف کیا ہے کہ حزب اللہ دمشق میں ربی "میخائیل حوری" کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتی تھی۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شامی وزارتِ داخلہ کے ایک ذریعے نے آج ہفتے کو دمشق میں ایک تخریبی منصوبے کی ناکامی اور بیرونی فریق سے وابستہ 5 افراد کی گرفتاری کی اطلاع دی تھی۔ مذکورہ ذریعے نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایک دھماکہ خیز مواد ناکارہ بنا دیا گیا ہے جو ایک مذہبی شخصیت کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے اور اس میں لبنان کے شامل ہونے کے بعد، دمشق نے فروری کے آغاز سے لبنانی سرحد پر میزائل یونٹس اور ہزاروں فوجی تعینات کر رکھے ہیں اور ان اقدامات کو دفاعی قرار دیا ہے۔

حزب اللہ اور تہران کے ساتھ دشمنی کے باوجود (جنہوں نے 2011 سے 2024 کی شامی خانہ جنگی کے دوران بشار الاسد کا ساتھ دیا تھا)، شامی صدر احمد الشرع 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے آغاز سے اب تک محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس دوران ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ ان پر حزب اللہ پر حملہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں