ہماری بندرگاہوں کا محاصرہ کیا گیا تو خلیج کی بندرگاہیں محفوظ نہیں رہیں گی : ایران
ایرانی فوج کے مطابق متوقع امریکی بحری محاصرہ غیر قانونی اور قزاقی ہے
ایرانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا متوقع امریکی بحری محاصرہ غیر قانونی ہو گا اور یہ قزاقی کے مترادف ہے۔ ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی گئی ہے کہ اگر ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کیا گیا تو خلیج کی بندرگاہیں محفوظ نہیں رہیں گی۔
ایرانی مسلح افواج کے مرکزی آپریشن روم، قرار گاہ خاتم الانبیاء کی جانب سے پیر کے روز ایک بیان میں، جو سرکاری ٹیلی ویژن پر پڑھ کر سنایا گیا، کہا گیا ہے کہ مجرم امریکہ کی جانب سے بین الاقوامی پانیوں میں بحری نقل و حرکت اور آمد و رفت پر عائد کردہ پابندیاں غیر قانونی ہیں اور یہ قزاقی کی ایک مثال ہے۔
قرار گاہ خاتم الانبیاء کے ترجمان نے متنبہ کیا کہ ایرانی بندرگاہوں کے لیے کسی بھی خطرے کا جواب خلیج کی بندرگاہوں میں بد امنی کی صورت میں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا "اگر خلیج اور بحر عمان کے پانیوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کی بندرگاہوں کی سکیورٹی خطرے میں پڑی تو خلیج یا بحر عمان کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔"
ترجمان ابراہیم ذو الفقاری نے اعلان کیا کہ تہران آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے ایک مستقل طریقہ کار پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
واشنگٹن کے مطابق محاصرہ پیر کے روز جی ایم ٹی کے مطابق دوپہر 14:00 بجے شروع ہوگا، جس میں ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے والے یا وہاں سے روانہ ہونے والے تمام جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وقت کی تصدیق کی اور "ٹروتھ سوشل" پلیٹ فارم پر لکھا "امریکہ 13 اپریل کو واشنگٹن کے وقت کے مطابق صبح دس بجے سے ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے والے اور وہاں سے نکلنے والے جہازوں پر محاصرہ نافذ کر دے گا۔"
محاصرے کے اچانک اعلان اور اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی نے عالمی سطح پر تیل کی رسد کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔
اسلام آباد میں بیس گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے مذاکرات میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی نے چھ ہفتوں سے زائد عرصے سے جاری حملوں کے دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ ان حملوں میں اب تک چھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت ایران اور لبنان میں ہوئی ہے، جبکہ عالمی معیشت کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔
ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دو ہفتوں کے لیے اعلان کردہ جنگ بندی 22 اپریل کو اپنی میعاد ختم ہونے تک برقرار رہے گی یا نہیں، کیونکہ جہاں پاکستانی ثالث نے اس پر مسلسل عمل درآمد پر زور دیا ہے، وہیں دونوں فریقوں کی جانب سے اس بارے میں کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔
امریکی وفد کی پاکستان سے واپسی کے بعد اپنے پہلے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو آبنائے ہرمز کے محاصرے کا اعلان کیا، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور مائع گیس کی پیداوار کا پانچواں حصہ گزرتا ہے اور واشنگٹن ایران سے اسے دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کر رہا تھا۔
تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے کہا ہے کہ وہ جہاز جو ایران کی طرف نہیں جا رہے یا وہاں سے نہیں آ رہے، انہیں گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے "فوکس نیوز" کو یہ بھی بتایا کہ برطانیہ سمیت دیگر ممالک اپنے جہاز بھیجیں گے تاکہ ان بارودی سرنگوں کو ہٹایا جا سکے جو ایران نے آبنائے کے پانیوں میں بچھائی ہیں، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ آپریشن کس طرح انجام دیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران نے فوری رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی دھمکی کے آگے نہیں جھکے گا۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قاليباف نے کہا کہ ان کا ملک کسی دباؤ کو تسلیم نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ "دشمن آبنائے ہرمز کے مہلک بھنور میں پھنس جائے گا"۔
-
سعودی اور پاکستانی وزرائے خارجہ کا امریکہ اور ایران مذاکرات کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال
سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے پاکستان کے نائب وزیراعظم اور ...
مشرق وسطی -
ایرانی وزیر خارجہ کا اپنے سعودی ہم منصب کو فون، امن مذاکرات پر تبادلہ خیال
ایران کے وزیر خاجہ عباس عراقچی نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ...
مشرق وسطی -
ایرانی معیشت کو ماہانہ 13 ارب ڈالر کا نقصان، پابندیوں کے ماہر کا انکشاف
واشنگٹن میں 'فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز' کے فیلو اور امریکی وزارت خزانہ کے ...
بين الاقوامى