اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے فوج کو جنوبی لبنان میں سکیورٹی زون کو وسیع کرنے کا حکم دے دیا ہے، یہ اعلان ان کے دفتر نے بدھ کی رات دیر گئے کیا، جبکہ حزب اللہ کے ساتھ جھڑپیں جاری ہیں۔
دوسری جانب آج جمعرات کو لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات متوقع ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی صبح کہا کہ آج اسرائیل اور لبنان کے درمیان بات چیت ہوگی۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ٹروتھ سوشل'' پر لکھا: اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان آخری بات چیت کو تقریباً 34 سال گزر چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ مذاکرات آج بعد میں ہوں گے۔اسی دوران اسرائیل لبنان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ بدھ کے روز سکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں جنگ بندی کے امکان پر بھی غور کیا گیا، تاہم کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، جیسا کہ میڈیا رپورٹس اور ''ایکس '' پر ''اکسیوس'' کے ایک صحافی کی پوسٹ سے ظاہر ہوتا ہے۔
اسرائیل اور لبنان کے نمائندوں نے منگل کو واشنگٹن میں براہِ راست سیاسی مذاکرات بھی کیے، جو کئی دہائیوں بعد پہلی بار ہوئے۔
نیتن یاہو کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور ایک مستقل امن قائم کرنا ہے۔دوسری طرف لبنانی حکومت جو اسرائیل اور حزب اللہ کے تنازع کا براہِ راست فریق نہیں، جنگ بندی اور جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلا کی خواہاں ہے۔
بدھ کے روز اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں۔نیتن یاہو نے مزید کہا کہ سکیورٹی زون کو مشرق کی جانب جبل الشیخ (ماؤنٹ ہرمن) کے دامن تک بھی وسیع کیا جائے گا، جس کا مقصد دروز (دروزی) برادری کی حمایت کرنا ہے۔
یہ پہاڑی سلسلہ شام اور لبنان کی سرحد کے ساتھ پھیلا ہوا ہے اور گولان کی پہاڑیوں تک جاتا ہے، جنہیں اسرائیل نے اپنے ساتھ شامل کر رکھا ہے۔