بغداد میں امریکی سفارت خانے نے ان ملیشیاؤں کی سرگرمیوں کے بارے میں اپنی تنبیہات کا اعادہ کیا ہے جو امریکی شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
سفارت خانے نے پیر کے روز جاری ایک بیان میں اس جانب اشارہ کیا ہے کہ عراقی حکومت سے وابستہ بعض عناصر دہشت گرد ملیشیاؤں کو سیاسی اور مالی تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔
بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ایران کی حلیف عراقی دہشت گرد ملیشیائیں پورے عراق بشمول خطہ کردستان میں امریکی شہریوں اور امریکہ سے وابستہ اہداف کے خلاف مزید حملوں کی منصوبہ بندی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ سفارت خانے نے بتایا کہ فضائی پروازیں محدود پیمانے پر بحال کر دی گئی ہیں اور ان امریکی شہریوں پر زور دیا ہے جو عراق کے راستے فضائی سفر کا ارادہ رکھتے ہیں کہ وہ عراقی فضائی حدود میں میزائلوں، ڈرونز اور گولہ باری کے مسلسل خطرات سے آگاہ رہیں۔
ڈالر کی ترسیل روک دی گئی
اسی دوران العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ نے نئی حکومت کی تشکیل تک ڈالروں کی ترسیل روک دی ہے۔
تحذير أمني – سفارة الولايات المتحدة في بغداد، العراق – 20 أبريل/نيسان 2026
— U.S. Embassy Baghdad (@USEmbBaghdad) April 20, 2026
الموقع: العراق
تواصل الميليشيات الإرهابية العراقية المتحالفة مع إيران التخطيط لهجمات إضافية ضد مواطنين أمريكيين وأهداف مرتبطة بالولايات المتحدة في جميع أنحاء العراق، بما في ذلك إقليم كردستان العراق.… pic.twitter.com/boQxIhGXUB
ذرائع کے مطابق امریکی جانب سے سکیورٹی کوآرڈینیشن کے اجلاس بھی نئی حکومت کی تشکیل اور امریکی سفارت خانے اور بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لاجسٹک سپورٹ بیس پر بمباری میں ملوث افراد کے بے نقاب ہونے تک معطل کر دیے گئے ہیں۔
اسی طرح واشنگٹن نے عراقی سکیورٹی اداروں کی فنڈنگ بھی منجمد کر دی ہے۔
واضح رہے کہ بغداد میں امریکی سفارت خانے، اربیل میں قونصل خانے اور عراقی دارالحکومت میں سفارتی سپورٹ سینٹر کو ایران نواز ملیشیاؤں کی جانب سے بارہا حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے جن میں سے کچھ الحشد الشعبی کا حصہ ہیں۔ یہ حملے 28 فروری سنہ 2026ء کو امریکہ اور اسرائیل کے ایک طرف اور ایران کے دوسری طرف ہونے کے بعد سے جاری جنگ کے آغاز کے بعد سے شروع ہوئے۔
دوسری جانب عراقی حکومت نے کئی بار اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک کو علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات سے دور رکھنا ضروری ہے۔
عراق گذشتہ کئی برسوں سے اپنے دو اتحادیوں ایران اور امریکہ کے درمیان کشمکش کے باعث خود کو اس تنازعے کے بیچ پاتا رہا ہے اور دونوں جانب کے تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے
-
جنگ بندی کی معیاد ختم ہونے کے قریب، پاکستان نے امریکہ ایران رابطے تیز کر دیے
ایسوسی ایٹڈ پریس نے پیر کے روز خبر دی کہ پاکستان نے اتوار سے واشنگٹن اور تہران کے ...
پاكستان -
امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں: ایران
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ہے کہ اُن کا مُلک ...
مشرق وسطی -
ایرانی پرچم بردار جہاز چھے گھنٹے تک انتباہ کا جواب دینے میں ناکام رہا: سینٹ کام
متحارب فریقین چھے گھنٹے تک روبرو تھے
مشرق وسطی