اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ منگل کے روز جنوبی لبنان میں اس نے کارروائی نہیں کی بلکہ حزب اللہ نے راکٹ فائر کیے ہیں۔ جو کہ حزب اللہ کی جانب سے جاری عارضی جنگ بندی کی خلاف ورزی کے ضمن میں آتا ہے۔
اسرائیلی فوج کا حزب اللہ کے خلاف یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی مدد سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان اسی ہفتے امن مذاکرات متوقع ہیں۔ اسرائیلی فوج کے اس بیان کے بعد حزب اللہ نے ابھی اس بارے میں کوئی رد عمل نہیں دیا ہے۔
حزب اللہ جنوبی لبنان پر اسرائیلی قبضے کی جاری کوششوں اور حملوں کے خلاف مزاحمت کو اپنا حق قرار دیتی ہے۔ یاد رہے اسرائیلی فوج نے نہ صرف یہ کہ جنوبی لبنان میں پانچ اہم پوزیشن اپنے زیر قبضہ لے رکھی ہیں بلکہ حالیہ دنوں میں دریائے لیطانی کے پار تک قبضہ کر کے بفر زون بنانے کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔
اسرائیل کی فوج چاہتی ہے کہ جس طرح شام میں نئی حکومت آنے کے بعد اس نے گولان کی پہاڑیوں کے ساتھ پیش قدمی کرکے اپنی من پسند کا ایک بفر زون بنا لیا ہے۔ لبنان میں بھی مستقل بفر زون بنا کر وہاں بیٹھی رہے۔ جیسا کہ امریکی صدر کے کہنے پر لبنان میں اسرائیلی جنگ بندی کا عارضی اعلان تو ہو گیا ہے مگر اسرائیلی فوج لبنانی علاقے میں اب بھی موجود ہے۔
اسرائیلی فوج نے منگل کے روز جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے ایک راکٹ لانچر کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے حزب اللہ راکٹ فائر کرتی تھی۔ اسرائیل کی لبنان میں نئی جنگ 2 مارچ سے جاری ہے۔
دوسری جانب جمعرات کے روز امریکہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔ لبنانی پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بیری جو پارلیمنٹ میں حزب اللہ کی سیاسی نمائندگی کرتے ہیں ، انہوں نے لبنانی اخبار جمہوریہ سے بات کرتے ہوئے کہا اگر اسرائیلی فوج نے ہمارے جنوبی لبنانی علاقے خالی نہ کیے تو اسرائیلی قبضے کی مزاحمت کی جائے گی۔ اسرائیل کا لبنان کے اندر قبضہ قبول نہیں کیا جا سکتا۔
اسرائیلی فوج نے لبنان میں اپنے قبضے کے اعلان کے بعد غزہ کے انداز میں 'ییلو لائن' لگانے کا بھی اہتمام کر لیا ہے اور زیر قبضہ علاقے کے نقشے بھی اتوار کے روز جاری کیے ہیں۔ اس سے قبل اسرائیل کئی بار لبنان کو بھی غزہ بنانے کی دھمکی دیتا رہا ہے۔ اسرائیلی فوج غزہ میں تباہی کے ماڈل کو اپنی ہر جنگ میں بروئے کار لانے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔
لبنان اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔ اس لیے 2 مارچ سے شروع نئی جنگ کے دوران 12 لاکھ لبنانی شہری بے گھر کر دیے گئے ہیں۔ اپنی ان کارروائیوں کے دوران اسرائیلی فوجی مسیحیوں کو بھی نشانہ بنانے لگے ہیں۔