ریاض : سَر جڑی فلپائنی بچیوں کو الگ کرنے کا آغاز ، پیچیدہ آپریشن 24 گھنٹے جاری رہے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

جڑواں بچوں کو الگ کرنے کے سعودی پروگرام سے وابستہ طبی ٹیم نے آج صبح فلپائن سے تعلق رکھنے والی سر سے جڑی دو بچیوں "کلیا اور موریس آن" کو الگ کرنے کا آپریشن شروع کر دیا۔ یہ آپریشن خادمِ حرمین شریفین اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایات پر عمل درآمد کرتے ہوئے، ریاض میں وزارتِ نیشنل گارڈز کے شاہ عبدالعزیز میڈیکل سٹی میں واقع شاہ عبداللہ اسپیشلائزڈ چلڈرن اسپتال میں کیا جا رہا ہے۔

شاہ سلمان امدادی مرکز کے سربراہ اور طبی ٹیم کے نگرانِ اعلیٰ ڈاکٹر عبداللہ الربيعہ نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ فلپائنی بچیاں 17 مئی 2025 کو سعودی عرب لائی گئی تھیں۔ اسپتال میں داخلے کے بعد ان کے متعدد اور دقیق طبی معائنے کیے گئے۔ طبی ٹیم کے مطابق یہ کیس دنیا کے پیچیدہ ترین کیسز میں سے ایک ہے، جس کی بڑی وجہ دونوں سروں کا ایک پیچیدہ زاویے پر جڑا ہونا، دماغی نسوں کا وسیع اشتراک اور دماغی بافتوں کا آپس میں ملا ہونا ہے۔ مزید یہ کہ بچی "کلیا" دل کی کمزوری، گردوں کے شدید سکڑاؤ اور گردوں کے مکمل فیل ہونے کے مسائل کا شکار ہے، جس سے سرجری کے خطرات میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔

الربیعہ نے واضح کیا کہ بچوں کے نیورو سرجن ڈاکٹر معتصم الزعبی کی قیادت میں جراحی ٹیم نے اس آپریشن کو 5 مراحل میں مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میں اینستھیزیا، انتہائی نگہداشت، ریڈیولوجی اور پلاسٹک سرجری جیسے شعبوں کے 30 کنسلٹنٹ، ماہرین اور نرسنگ اسٹاف حصہ لے رہے ہیں۔ توقع ہے کہ یہ آپریشن 24 گھنٹے تک جاری رہے گا۔

ڈاکٹر الربيعہ کے مطابق طبی پیچیدگیوں کی وجہ سے خطرے کا تناسب 50 فی صد تک ہے، جبکہ اعصابی پیچیدگیوں کے باعث معذوری کا خدشہ 60 فی صد تک ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے ایک عالمی ماہر طبی مرکز سے بھی مشاورت کی گئی ہے جس نے سعودی ٹیم کے تخمینے سے اتفاق کیا ہے۔ بچیوں کے والدین کو تمام صورت حال اور خطرات سے مفصل آگاہ کر دیا گیا ہے جنہوں نے جراحی ٹیم کے پلان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

یاد رہے کہ یہ سعودی پروگرام کے تحت جڑواں بچوں کو الگ کرنے کا 70 واں آپریشن ہے۔ 1990 سے اب تک یہ پروگرام دنیا کے 5 براعظموں کے 28 ممالک سے تعلق رکھنے والے 157 جڑواں بچوں کی دیکھ بھال کر چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size