حج پرمٹ سسٹم لاکھوں لوگوں کے انتظام کی کلید ہے

پرمٹ کے بغیر حج کی اجازت نہیں، سختی سے تعمیل ضروری ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی وزارتِ حج و عمرہ نے زور دے کر کہا ہے کہ عازمین کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے حج کے سرکاری اجازت ناموں کی سختی سے تعمیل ضروری ہے۔

سعودی پریس ایجنسی نے اطلاع دی کہ ان ضوابط کی پیروی سے حجاج کرام کے لیے مناسکِ حج کی بآسانی ادائیگی ممکن ہو جاتی ہے اور حج کے پورے سیزن میں منظم نقل و حرکت اور استحکام میں مدد ملتی ہے۔

وزارت نے کہا کہ پرمٹ سسٹم ہجوم کے انتظام اور مقدس مقامات پر زائرین کی متوازن تقسیم کا ایک اہم ذریعہ ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ صحیح وقت اور جگہ پر مؤثر طریقے سے خدمات فراہم کی جائیں۔

وزارت نے خبردار کیا کہ خلاف ورزیوں پر نہ صرف قانونی جرمانہ عائد ہوتا ہے بلکہ اس سے حاجیوں کی حفاظت اور سروس آپریشنز کو بھی خطرہ ہوتا ہے۔

وزارت نے بغیر لائسنس حج مہمات اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے گمراہ کن اشتہارات کے خلاف بھی خبردار کیا۔

کہا گیا ہے کہ یہ تمام دنیا میں حج امور کے دفاتر سے رابطہ کر رہی ہے تاکہ حجاج کی آمد سے قبل بیداری پیدا کی جائے اور انہیں رہنمائی فراہم کی جائے جس سے شروع سے ہی حج کو منظم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

وزارت نے ممکنہ حجاج پر زور دیا کہ وہ سفر سے پہلے اپنے اجازت ناموں کی تصدیق کر لیں اور "پرمٹ کے بغیر حج نہیں" کی پالیسی ایک محفوظ اور روحانی تجربے کے لیے ضروری ہے۔

وزارتِ داخلہ نے حج ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر 100,000 ریال تک جرمانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

وزارت نے حج کے ضوابط کی مکمل تعمیل اور حجاج کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے مجاز حکام کے ساتھ تعاون پر زور دیا۔

عوام کو مکہ، مدینہ، ریاض اور مشرقی ریجن میں 911 یا مملکت کے دیگر حصوں میں 999 پر کال کرکے جرائم کی اطلاع دینے کی بھی ترغیب دی گئی ہے۔

دریں اثناء مدینہ میں سعودی ہلالِ احمر اتھارٹی نے منظور شدہ آپریشنل فریم ورک کے مطابق پورے خطے میں حج سیزن کے لیے اپنا آپریشنل پلان جاری کر دیا ہے۔

اتھارٹی کی مدینہ برانچ کے ڈائریکٹر جنرل احمد الزہرانی نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد مسجدِ نبوی اور مدینہ کی طرف جانے والی سڑکوں پر زائرین کے لیے ہنگامی طبی اور ایمبولینس خدمات فراہم کرنا ہے۔ اس میں زائرین کی آمد اور روانگی کے تمام مراحل کا احاطہ کیا جائے گا۔ اس منصوبے میں 10 آپریشنل سیکٹرز شامل ہیں جن کو 90 سے زیادہ ایمبولینس یونٹس کی مدد حاصل ہے۔

ان میں 54 ایمبولینس گاڑیاں اور 27 ریپڈ ریسپانس ٹیمیں شامل ہیں جو موٹرسائیکل، سائیکل، سکوٹر، گولف کارٹس اور رفیدہ الیکٹرک گاڑیوں پر مشتمل ہیں۔ اس کے علاوہ حادثات کے لیے خصوصی ڈیزاسٹر رسپانس یونٹس شامل ہیں۔

نازک معاملات کو سنبھالنے کے لیے ایئر ایمبولینس کی مدد کی پوری تیاری کے ساتھ تمام یونٹس جدید طبی ٹکنالوجیز سے آراستہ ہیں

الزہرانی نے کہا کہ اس منصوبے میں 700 سے زائد طبی، تکنیکی اور انتظامی عملے کو ایک مربوط نظام میں شامل کیا گیا ہے تاکہ تیز رفتار کارروائی اور اعلیٰ کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آپریشنل ڈیمانڈ کی بنیاد پر مسجدِ نبوی اور اس کے اطراف کے صحنوں کے اندر فیلڈ کوریج کو مضبوط بنایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں