رضا پہلوی کا یورپ پر ایرانی نظام کا ساتھ دینے کا الزام عائد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے یورپ اور اس کے میڈیا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ خاموشی اور دانستہ نظراندازی کے ذریعے ایرانی حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں، خصوصاً عوام کے خلاف ہونے والے مظالم پر۔

اپنے تقریباً ساڑھے چار منٹ کے ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا: چاہے یورپ ہمارا ساتھ دے یا نہ دے، آپ کے صحافی اپنا فرض ادا کریں یا نہ کریں اور آپ کے سیاستدان ہمت دکھائیں یا نہ دکھائیں، میں اپنے عوام اور اپنے ملک کے لیے جدوجہد جاری رکھوں گا۔

پہلوی نے بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں یورپ کا دورہ مکمل کیا، جس میں پارلیمنٹیرینز، حکومتی عہدیداروں اور صحافیوں سے ملاقاتیں کیں، تاکہ ان لاکھوں ایرانیوں کی آواز پہنچائی جا سکے جو اسلامی جمہوریہ کے تحت یرغمال ہیں، جہاں دہشت گردی اور انٹرنیٹ کی بندش جیسے اقدامات جاری ہیں۔

تاہم انہوں نے یورپی میڈیا پر براہِ راست تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسی خاموشی اور سنسرشپ کا حصہ بن چکے ہیں جو ایرانی حکومت اختیار کیے ہوئے ہے۔

ان کے مطابق اسٹاک ہوم اور برلن میں ہونے والی دو پریس کانفرنسز میں 150 سے زائد یورپی صحافیوں نے شرکت کی، لیکن کسی نے بھی 40 ہزار ایرانیوں کے قتل، حالیہ ہفتوں میں 19 سیاسی قیدیوں کی پھانسی، یا متاثرہ خاندانوں کے حالات پر کوئی سوال نہیں اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ یہ صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری اور اخلاقی غیر جانبداری دونوں سے دستبردار ہو چکے ہیں، ان کی توجہ امریکہ اور اسرائیل پر تنقید کرنے پر زیادہ ہے بجائے اس حکومت کے جو گزشتہ 47 برس سے ایرانی عوام پر ظلم کر رہی ہے۔

رضا پہلوی نے یورپی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام اپنے ملک کی بحالی کے لیے یورپ یا اس کے میڈیا اور سیاستدانوں کی منظوری کے منتظر نہیں رہیں گے۔

انہوں نے اپنے پیغام کا اختتام اس نعرے پر کیا: ہم ایران کو واپس حاصل کریں گے۔یہ پیغام سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا اور اسے 6اعشاریہ9 ملین سے زائد بار دیکھا گیا۔

یاد رہے کہ رضا پہلوی 1979 سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ایرانی اپوزیشن کے نمایاں رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ ایک جمہوری اور سیکولر نظام کے قیام کے حامی ہیں۔

مبصرین کے مطابق یہ بیان یورپی پالیسیوں کے خلاف ان کے مؤقف میں ایک واضح شدت کی نشاندہی کرتا ہے، جسے کئی ایرانی مخالفین تہران حکومت کے لیے نرم یا بالواسطہ حمایتی رویہ قرار دیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں