ایران ایشیائی شراکت داروں کے ساتھ دفاعی صلاحیتوں کا اشتراک کرنے کے لیے تیار ہے

شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے اجلاس میں رضا طلایی نیک کی گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق منگل کے روز نائب وزیرِ دفاع رضا طلایی نیک نے کہا ہے کہ ایران "آزاد ممالک خاص طور پر شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اراکین" کے ساتھ اپنی دفاعی ہتھیاروں کی صلاحیتوں کا اشتراک کرنے کے لیے تیار ہے۔

ایران نے فروری کے آخر سے اپریل کے اوائل تک امریکہ اور اسرائیل سے جنگ لڑی اور اس دوران اس نے ڈرونز اور میزائل حملے کیے جن کا مقصد پورے خطے میں امریکی فوجی مراکز کے ساتھ ساتھ اسرائیلی مقامات کو نشانہ بنانا تھا جبکہ وقفے وقفے سے اپنی فضائی حدود میں امریکی فضائی اہداف اور بنیادی طور پر ڈرونز مار گرائے۔

طلایی نیک نے کرغزستان کے دارالحکومت میں منعقدہ ایس سی او ممالک کے وزراء دفاع کے اجلاس میں کہا، "ہم تنظیم کے دیگر اراکین کے ساتھ امریکہ کی شکست کے تجربات کا اشتراک کرنے کے لیے تیار ہیں۔"

ایرانی عہدیدار نے حال ہی میں روسی اور بیلاروسی دفاعی اہلکاروں کے ساتھ گفتگو کی جس میں ماسکو اور مِنسک نے تہران سے تعاون جاری رکھنے کی خواہش پر زور دیا۔

اس ماہ کے شروع میں اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد لڑائی موقوف ہے لیکن دو ماہ سے جاری تنازع حل کرنے کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں