لبنانی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان فائر بندی کے باوجود پیر کے روز جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت چار افراد جاں بحق اور تین بچوں سمیت 51 افراد زخمی ہو گئے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اور وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 17 اپریل کو ملک میں نافذ ہونے والی اس نازک ترین جنگ بندی کے آغاز سے اب تک لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 40 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
اس سے قبل لبنانی وزارت صحت کے ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے پیر کو بتایا تھا کہ گذشتہ 2 مارچ سے اتوار کی آدھی رات تک لبنان پر ہونے والی اسرائیلی بم باری میں جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 2521 اور زخمیوں کی تعداد 7804 تک پہنچ گئی ہے۔
لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق پیر کے روز اسرائیلی طیاروں نے جنوبی لبنان کے قصبوں غندوریہ اور مجدل سلم کو نشانہ بنایا۔ اسی طرح اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ہی بیّاضہ کے مضافات میں مشین گنوں سے فائرنگ کی اور رب ثلاثین نامی قصبے میں دھماکے کیے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے مشرقی اور جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے "بنیادی ڈھانچوں" پر حملے کیے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس کی فورسز نے گزشتہ چند دنوں کے دوران جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے 50 سے زائد ٹھکانے تباہ کیے ہیں، جن میں ایک زیر زمین کمپلیکس بھی شامل ہے جسے مبینہ طور پر حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
ادھر حزب اللہ نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان کے سرحدی قصبے میں ایک مرکاوا ٹینک اور بنت جبیل شہر میں گھروں کو مسمار کرنے والی ایک فوجی بلڈوزر کو نشانہ بنایا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2 مارچ سے جاری شدید اسرائیلی حملوں کے بعد 16 اپریل کی آدھی رات سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان دس روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد 23 اپریل کو اس جنگ بندی میں مزید 3 ہفتوں کی توسیع کا اعلان کیا گیا۔