حزب اللہ کا ذخیرہ ختم ہونے کے قریب؛ تہران-دمشق-بیروت روٹ بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 9 منٹ

اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ جاری ہے، اسرائیلی حملے اب اس نام نہاد ''پیلی لکیر ''سے آگے بڑھ کر جنوبی لبنان کے قصبوں کے ساتھ ساتھ دریائے لیطانی کے شمالی علاقوں تک بھی پہنچ گئے ہیں۔

پہلی مرتبہ جنگ بندی معاہدے کے بعد اسرائیلی فضائیہ نے پیر کے روز مشرقی لبنان کے علاقے بقاع میں واقع قصبہ جنٹا پر فضائی حملہ کیا۔

اسی دوران جنوبی لبنان کے اضلاع صور، النبطیہ اور بنت جبیل میں بھی متعدد فضائی کارروائیاں کی گئیں۔

دوسری جانب حزب اللہ نے ''جوابی ردعمل کے بدلے ردعمل'' کی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے اپنی حالیہ کارروائیوں میں جنوبی لبنان کے اندر موجود اسرائیلی فوجی اجتماعات کو نشانہ بنایا ہے، جس میں ڈرون حملوں کا استعمال کیا گیا۔

مشاہدہ کاروں کے مطابق اب حزب اللہ کی کارروائیاں زیادہ تر ضلع النبطیہ میں مرکوز ہیں، جو اسرائیلی زیرِ قبضہ علاقے الطیبہ کے سامنے واقع ہے۔

اسی وجہ سے اسرائیلی حملے بھی قلعت الشقیف، یحمر اور کفر تبنیت جیسے علاقوں پر بڑھ گئے ہیں، جو الطیبہ کے قریب واقع ہیں۔صور کے قریب وادی الحجیر کے سامنے والے علاقے بھی شدید کشیدگی کی زد میں ہیں، جہاں اسرائیلی فوجی دستے القنطرہ، حولا اور میس الجبل کے اطراف میں موجود ہیں، جبکہ اس کے جواب میں حزب اللہ خربہ سلم، تولین، الصوانہ، تبنین اور السلطانیہ جیسے علاقوں میں کارروائیاں کر رہا ہے۔

ایک عسکری ذریعے کے مطابق حزب اللہ کی حالیہ کارروائیاں ''پیلی لکیر'' سے باہر ہو رہی ہیں، جبکہ النبطیہ کے دیہات میں شدید فضائی حملوں کے باعث بڑی تعداد میں شہری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

تہران-دمشق-بیروت روٹ

عسکری ذرائع کے مطابق حزب اللہ کی جنوبی لبنان میں کارروائیوں میں کمی کی کئی وجوہات ہیں۔ ان میں سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ اسے پہلے جیسی نقل و حرکت کی آزادی حاصل نہیں رہی۔

اس کے علاوہ لبنانی فوج کی جانب سے کیے گئے اقدامات بھی اس کمی کا سبب بنے ہیں، جن میں چیک پوسٹس کا قیام اور گشت میں اضافہ شامل ہے۔

ان اقدامات نے مختلف علاقوں کے درمیان اسلحہ اور گولہ بارود کی ترسیل کو کافی حد تک متاثر کیا ہے۔تاہم عسکری ذریعے کے مطابق سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ حزب اللہ کو اپنا وہ مرکزی رسد کا راستہ بھی متاثر ہونا پڑا ہے، جس پر وہ پہلے گولہ بارود اور دیگر عسکری سامان حاصل کرنے کے لیے انحصار کرتا تھا۔

حزب اللہ کا ذخیرہ دوبارہ بھر نہیں سکا

ذرائع کے مطابق تہران-دمشق-بیروت کا وہ اہم راستہ، جسے ایک وقت میں زندگی کی مرکزی شریان سمجھا جاتا تھا، اب بند ہو چکا ہے۔ اس بندش کے نتیجے میں حزب اللہ کے اسلحہ ذخائر کی دوبارہ فراہمی ممکن نہیں رہی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسی وجہ سے حزب اللہ نے اپنی کارروائیوں میں ''احتیاطی حکمت عملی'' اختیار کر لی ہے، جس کے تحت ڈرون یا میزائل حملوں میں کمی کی جا رہی ہے۔ اندازہ ہے کہ یہ حکمت عملی جنگ بندی کے دورانیے اور آئندہ ممکنہ تصادم کے تناظر میں اپنائی گئی ہے۔

خودکش گروہ

ذرائع کے مطابق جوابی کارروائیوں میں کمی کے مقابلے میں حزب اللہ نے مبصرین کے بقول ''انتحاری کارروائیوں'' کی حکمت عملی اختیار کی ہے، یعنی وہ پرانی طرزِ جنگ کی طرف واپس جا رہا ہے جو 1980 کی دہائی میں رائج تھی۔

اس کے تحت خودکش نوعیت کے گروہوں کے ذریعے اسرائیلی افواج کو جنوبی لبنان کے مقبوضہ علاقوں میں مستحکم ہونے سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

تاہم ایک عسکری ذریعے نے اس دعوے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے طریقے وقت کے ساتھ بدل چکے ہیں اور 1980 کی دہائی کے اندازِ جنگ آج کے حالات میں مؤثر نہیں رہے۔

ان کے مطابق اسرائیل اس وقت جدید نگرانی کے نظام، مسلسل پرواز کرنے والے جاسوس ڈرونز اور پیچیدہ ٹریکنگ سسٹمز سے لیس ہے۔

مزید یہ کہ اسرائیل مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ٹیکنالوجی بھی استعمال کر رہا ہے، جس کے ذریعے کسی بھی نقل و حرکت یا مشکوک سرگرمی کو فوری طور پر شناخت کیا جا سکتا ہے۔

میزائلوں کا ذخیرہ غیر فعال ہو چکا ہے

ایک فوجی ماہر بریگیڈیئر (ر) فادی داوود کے مطابق حزب اللہ کے درمیانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اب عملی طور پر فعال استعمال کے قابل نہیں رہے، کیونکہ ان کے استعمال کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچہ متاثر ہو چکا ہے۔

ان کے مطابق اسرائیل کی نگرانی کی صلاحیتیں بھی کافی حد تک جدید ہو چکی ہیں، جن میں ڈرونز، مصنوعی سیارے، مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام اور حتیٰ کہ لیزر پر مبنی دفاعی ٹیکنالوجی بھی شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ جنگ کے دوران حزب اللہ کے میزائل ذخائر میں نمایاں کمی آئی ہے۔

اسرائیلی سیکیورٹی اداروں کی تازہ ترین اندازوں کے مطابق حزب اللہ کے پاس اب تقریباً 20 سے 25 ہزار میزائل اور گولے باقی رہ گئے ہیں، جن میں زیادہ تر کم اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار شامل ہیں۔

حزب اللہ کی تنصیبات کی تباہی

رپورٹس کے مطابق حزب اللہ کے جنوبی لیطانی دریا کے علاقے میں 90 فیصد سے زائد تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں، جس کے بعد لبنانی فوج نے باقی ماندہ کچھ مقامات کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے۔

اسی دوران بقاع کے بعض علاقوں پر بھی بمباری کی گئی، جس سے حزب اللہ کی نقل و حرکت اور میزائل فائر کرنے کی صلاحیت شدید متاثر ہوئی، کیونکہ اب کسی بھی کارروائی کا فوراً سراغ لگنے اور نشانہ بننے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

فوجی ماہر فادی داوود کے مطابق حزب اللہ کو اس وقت سنگین ساختی مشکلات کا سامنا ہے، جن میں سب سے اہم طویل قیادت کا بحران اور درمیانی سطح کی قیادت میں نمایاں کمزوری شامل ہے۔

ان کے مطابق حالیہ جنگ کے دوران ہونے والی کارروائیوں نے تنظیم کی سیاسی اور عسکری قیادت کو نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں اندرونی اختلافات اور قیادت کا خلا مزید بڑھ گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2024 کی جنگ، ڈرون حملوں اور طویل عرصے تک جاری رہنے والی نگرانی و ہدفی کارروائیوں نے جنگجوؤں کو بھی شدید کمزور کر دیا ہے، جس سے تنظیم کی عملی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔

اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسلحہ کی ترسیل کے راستے منقطع ہو چکے ہیں اور شام کے ذریعے اسلحہ کی اسمگلنگ کی صلاحیت بھی کمزور پڑ گئی ہے کیونکہ زمینی اور بحری راستوں پر سخت نگرانی جاری ہے۔ مزید یہ کہ ایران کی حالیہ کمزوری اور اس پر ہونے والے دباؤ نے بھی حزب اللہ کی بیرونی مدد کو متاثر کیا ہے۔

فوری حملہ کرنا اور فوراً پیچھے ہٹ جانا (Hit and Run)

ذرائع کے مطابق حزب اللہ اب بھی موجود ہے اور لڑائی جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن اس کی حکمت عملی میں واضح تبدیلی آ چکی ہے۔ پہلے وہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے درست نشانے والے میزائلوں کے ساتھ ایک بھرپور جارحانہ نظام کے طور پر کام کرتا تھا، مگر اب اس نے اپنی حکمت عملی کو ''ہٹ اینڈ رن'' (Hit and Run) تک محدود کر لیا ہے، جس میں ڈرونز اور مختصر فاصلے کے میزائلوں کے ذریعے فوری حملہ کر کے پیچھے ہٹ جانا شامل ہے۔

یہ انداز اس کی موجودہ محدود صلاحیتوں کے مطابق سمجھا جا رہا ہے۔اس دوران اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حزب اللہ کے پاس موجود میزائل اور ڈرونز جنوبی لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں کو جاری رکھنے کی ضرورت پیدا کرتے ہیں، حالانکہ دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ موجود ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حزب اللہ کے پاس اب صرف تقریباً 10 فیصد میزائل باقی رہ گئے ہیں جو جنگ کے آغاز کے وقت اس کے پاس تھے، لیکن یہ اب بھی اسرائیل کے شمالی علاقوں کے لیے خطرہ ہیں۔

نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کو اپنی دفاعی کارروائیاں جاری رکھنے کا حق حاصل ہے اور یہ کارروائیاں امریکہ اور لبنانی حکومت کے ساتھ طے شدہ سمجھوتوں کے تحت کی جا رہی ہیں۔

واضح رہے کہ جنگ بندی معاہدہ 17 اپریل کو مختلف مراحل کے مذاکرات کے بعد نافذ ہوا تھا، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے مزید تین ہفتوں کے لیے بڑھا دیا۔

معاہدے کے مطابق اسرائیل کو اپنے دفاع میں ضروری کارروائی کرنے کا حق حاصل ہے، اگر کسی فوری یا جاری خطرے کا سامنا ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں