علاقائی بحرانوں کے خاتمے اور استحکام کے لیےسعودی عرب کی مساعی تیز
’ سعودی عرب مشرق وسطیٰ کو مہنگی جنگ کے اخراجات سے بچانے کے لیے سکیورٹی انتظامات ترتیب دے رہا ہے‘
مشرق وسطیٰ کے بحرانوں پر قابو پانے کی کوشش میں سعودی عرب نے گذشتہ دنوں اپنی سیاسی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں تاکہ ایسے سکیورٹی اقدامات کی بنیاد رکھی جا سکے جو استحکام کا باعث بنیں اور علاقائی تناؤ کے اثرات کو کم کریں۔ اس سرگرمی کے اشارے مملکت کی قیادت میں خلیجی ہم آہنگی کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ بحران کے کسی بھی حل میں خلیجی ممالک کے مفادات کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ کشیدگی میں کمی کے لیے سعودی ایرانی رابطے بھی نمایاں ہوئے ہیں اور اسلام آباد میں ثالثوں کے ساتھ مشاورت کا دائرہ بڑھایا گیا ہے تاکہ تنازع کے فریقین کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کی جا سکے۔ مزید برآں سعودی عرب نے بیروت میں استحکام کی حمایت اور لبنان کے خلاف اسرائیلی حملوں کے خاتمے کو اپنی ترجیح قرار دیا ہے۔
سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے خلاف ایرانی حملوں کے باوجود ریاض نے اپنی خارجہ پالیسی کے تسلسل کو برقرار رکھا ہے جسے مبصرین ایک متوازن پالیسی قرار دیتے ہیں۔ سعودی تحرک کا مقصد افراتفری کے مقابلے میں استحکام کے دائرے کو وسعت دینا ہے تاکہ ایسے تعمیری حل تلاش کیے جائیں جو علاقائی خطرات کو روک سکیں اور مشترکہ چیلنجز کے خلاف نظریات کو متحد کیا جا سکے۔ محققین نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مملکت اپنے جیو پولیٹیکل اور سفارتی اثر و رسوخ کی بدولت ایسے سکیورٹی انتظامات کرنے کی اہلیت رکھتی ہے جو خطے کو کسی بھی بڑے تصادم کی بھاری قیمت سے بچا سکیں۔
سعودی سیاسی محقق خالد الغنامی کا ماننا ہے کہ موجودہ بحرانوں کے حوالے سے سعودی عرب کا اندازِ فکر خطے کو کشیدگی سے نکال کر توازن کی طرف لے جانے کے وسیع وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی کوششیں اس گہرے ادراک کا نتیجہ ہیں کہ خطے کا استحکام اب محض ایک سیاسی انتخاب نہیں بلکہ قومی سلامتی کے تحفظ اور معاشی ترقی کے تسلسل کے لیے ایک اسٹریٹجک ضرورت بن چکا ہے۔
اپریل کے آغاز کے ساتھ ہی جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ دوسرے مہینے میں داخل ہوئی تو عالمی رہنماؤں کی جدہ آمد کا سلسلہ تیز ہو گیا۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک ماہ کے دوران آٹھ سربراہان مملکت سے ملاقاتیں کیں جن میں اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی، برطانوی وزیراعظم کئیر اسٹارمر، یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا، پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف، سوڈان کی عبوری خودمختار کونسل کے سربراہ عبدالفتاح البرہان، شام کے احمد الشرع، سوئس کنفیڈریشن کے صدر گی پارمیلان اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی شامل تھے۔
اسی مدت کے دوران ولی عہد کو متعدد بین الاقوامی فون کالز بھی موصول ہوئیں جن میں چین کے صدر شی جن پنگ، جاپان کی وزیراعظم سانائی تاکائچی، فرانسیسی صدر عمانویل میکروں، کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی اور لبنان کے جوزف عون کے ساتھ بات چیت شامل تھی۔
بحران پر قابو پانے کی کوششیں
سعودی عرب آنے والے رہنماؤں کی ملاقاتوں میں علاقائی بحران کے اثرات کو روکنے اور مشترکہ مفادات کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بین الاقوامی رہنماؤں کے ساتھ رابطوں میں موجودہ صورتحال کے سکیورٹی اور معاشی اثرات کے ساتھ ساتھ بحری جہاز رانی کی سکیورٹی پر بھی بات ہوئی۔ ولی عہد نے لبنانی صدر کے ساتھ گفتگو میں لبنان کی خودمختاری کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔
سعودی کاوشیں سب سے زیادہ موثر
کنگ سعود یونیورسٹی میں پولیٹیکل ایسوسی ایشن کے نائب صدر ڈاکٹر سلمان العنزی کا کہنا ہے کہ ریاض کے ساتھ رابطوں کی شدت اس عالمی یقین کو ظاہر کرتی ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان کی کوششیں موجودہ جنگ کے اثرات سے نمٹنے میں سب سے زیادہ موثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مملکت کا کردار توانائی کی سکیورٹی اور سپلائی کے تسلسل کو یقینی بنانے میں کلیدی ہے۔
سلمان العنزی نے مزید کہا کہ ولی عہد کی قیادت میں سعودی تحرک مملکت کی اس حیثیت کو واضح کرتا ہے کہ وہ ایک علاقائی سکیورٹی مرکز ہے جو خطے کے کمزور حصوں سے خطرات کو خلیجی ممالک تک منتقل ہونے سے روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔
تیز رفتار سعودی ہم آہنگی
اسی تناظر میں سعودی عرب علاقائی ممالک کے ساتھ مشاورت اور ہم آہنگی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ مشترکہ موقف اپنایا جا سکے۔ سعودی محقق عبداللہ بن بجاد العتیبی کا کہنا ہے کہ ولی عہد کے سیاسی اقدامات وقت سے پہلے کی بصیرت پر مبنی ہوتے ہیں۔
سیاسی محققین کا کہنا ہے کہ موجودہ بحرانوں کے حوالے سے سعودی عرب کا موقف ریاض کے اس وسیع ویژن کا آئینہ دار ہے جس کا مقصد خطے کو توازن برقرار رکھنے کے مرحلے میں داخل کرنا ہے۔ العتیبی نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی تقدیر میں قیادت کرنا لکھا ہے اور اس نے کبھی اس کردار سے منہ نہیں موڑا۔ جب غزہ میں حالات کشیدہ ہوتے ہیں تو مملکت فلسطینی کاز کی حمایت میں سب سے آگے ہوتی ہے اور جب لبنان اندرونی دشمن حزب اللہ اور بیرونی دشمن اسرائیل کے درمیان مشکلات کا شکار ہوتا ہے تو سعودی عرب لبنانی ریاست اور عوام کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔
منگل کے روز سعودی کابینہ نے ایک بار پھر مملکت کے اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی امن و استحکام کے قیام کی تمام سفارتی کوششوں کی حمایت کا یقین دلایا۔
ریاض: امن کی بحالی کا فعال مرکز
خالد الغنامی کا کہنا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران شہزادہ محمد بن سلمان کا کردار حالات کو پرامن بنانے اور استحکام کی واپسی میں مرکزی رہا ہے۔ انہوں نے سفارتی ذرائع کو ترجیح دے کر خطے کو وسیع تر تصادم سے بچانے کی کوشش کی ہے۔
خالد الغنامی نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ ولی عہد نے علاقائی طاقتوں کے درمیان رابطے کے پل دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے غیر معمولی کوششیں کی ہیں جس سے سعودی عرب کی حیثیت ایک مستحکم علاقائی قوت کے طور پر مضبوط ہوئی ہے۔ یہ کوششیں نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی میدان میں بھی نظر آتی ہیں جہاں توانائی کی عالمی منڈیوں کو اتار چڑھاؤ سے بچانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔
ریاض نے ایک طرف اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھی ہیں تو دوسری طرف ریاستوں کی خودمختاری، حسن جوار، اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور تنازعات کے حل کے لیے طاقت کے استعمال سے گریز جیسے اصولوں پر اپنی وابستگی کا اعادہ بھی کیا ہے۔
-
ہم نے سعودی عرب کے تعاون سے ساڑھے تین ارب ڈالر کا قرضہ ادا کر دیا:پاکستانی وزیراعظم
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے سعودی عرب کی بدولت ساڑھے تین ...
پاكستان -
سعودی عرب : حج کے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کی گرفتاری کا سلسلہ جاری
گذشتہ سال 2 لاکھ 5 ہزار سے زائد افراد نے بغیر پرمٹ حج کی کوشش کی تھی
مشرق وسطی -
سعودی عرب اور فرانس کا علاقائی اور بین الاقوامی تازہ ترین صورت حال پر تبادلہ خیال
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے آج ریاض میں فرانس کے وزیر برائے امور ...
مشرق وسطی