یونان کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی افواج نے غزہ کے لیے روانہ ہونے والے امدادی بحری جہازوں پر قبضہ کر لیا جس کے بعد ان پر سوار 100 سے زائد فلسطینی حامی کارکنان کو جمعے کے روز یونانی جزیرے کریٹ لے جایا گیا۔
یہ کارکنان انسانی امداد لے جانے والے دوسرے عالمی صمود فلوٹیلا کا حصہ تھے جو حالیہ مہینوں میں غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش میں شروع کیا گیا تھا۔ یہ بحری جہاز 12 اپریل کو ہسپانوی بندرگاہ بارسلونا سے روانہ ہوئے۔
منتظمین نے بتایا کہ جمعہ کے روز اسرائیلی فوج کے جہاز نے فلوٹیلا عملے کے 168 ارکان کو یونانی کشتیوں میں منتقل کیا جو پھر انہیں ساحل پر لے گئیں جہاں بسیں اور ایک ایمبولینس ان کا انتظار کر رہی تھیں جبکہ دو کارکنان اسرائیلی حکام کے ساتھ رہے۔ رائٹرز کی فوٹیج سے بھی یہی ظاہر ہوا۔
ایک ذریعے نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگرچہ اسرائیل نے 22 کشتیوں کو روک لیا لیکن 47 دیگر بدستور جنوبی کریٹ سے سفر کر رہی تھیں اور غزہ کی جانب بڑھنے سے پہلے ان کا کسی وقت وہاں لنگر انداز ہونے کا ارادہ تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ ہر جہاز پر تقریباً ایک ٹن خوراک، طبی اور دیگر سامان موجود ہے۔
فلوٹیلا کے منتظمین نے بتایا کہ 22 بحری جہازوں کو اسرائیل نے بدھ کے اواخر میں بین الاقوامی پانیوں میں یونان کے جزیرہ نما پیلوپونیس سے قبضے میں لے لیا جو غزہ سے سینکڑوں میل کے فاصلے پر ہے۔
اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے فلوٹیلا کے منتظمین کو "اشتعال انگیزی کرنے والے پیشہ ور لوگ" قرار دیا جبکہ جرمنی اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا، ہم "گہری تشویش" کے ساتھ اس پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
جمعرات کو ایک بیان میں امریکی محکمہ خارجہ نے ان لوگوں کے خلاف "نتائج مسلط کرنے" کی دھمکی دی جو اس فلوٹیلا کی حمایت کرتے ہیں جسے اس نے حماس کا حامی قرار دیا ہے۔
فلسطینی حامی کارکنان نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ فلسطینیوں کے حقوق کے لیے ان کی وکالت کو غلط طور پر حماس کے شدت پسندوں کی حمایت سے جوڑتے ہیں۔
گذشتہ اکتوبر میں بھی اسرائیل نے صمود فلوٹیلا کو روک کر ضبط کر لیا اور سویڈش کارکن گریٹا تھنبرگ سمیت کارکنان کو ملک بدر کر دیا تھا۔