سعودی عرب:ڈاکٹروں کا کامیاب آپریشن، تنزانیہ کی دو جڑواں بچیوں کے اجسام سرجری کے ذریعے الگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ماہر ڈاکٹروں نے ایک پیچیدہ سرجری کے ذریعے ناممکن کو ممکن بنا دیا ہے۔ مملکت میں سرجری کا یہ غیر معمولی واقعہ شاہ عبداللہ چلڈرن ہسپتال میں سامنے آیا ہے۔ جہاں ڈاکٹروں نے تنزانیہ سے تعلق رکھنے والے دو ایسے بچوں کے باہم جڑے اجسام کو کامیابی سرجری کر کے بحفاظت الگ کر دیا ہے۔

تنزانیہ سے تعلق رکھنے والی یہ دونوں جڑواں بہنیں ہیں۔ جن میں سے ایک کا نام نینسی اور دوسری کا نام نائس ہے۔ دونوں 18 ماہ پہلے جڑواں پیدا ہوئیں اور ان کے جسم باہم قدرتی طور پر جڑے ہوئے تھے۔ سعودی ڈاکٹروں نے ان کی زندگی کو محفوظ اور آسان بنانے کے لیے ان کی کامیاب سرجری کا اہتمام کیا ہے۔
ریاض کے سب سے اہم چلڈرن ہسپتال میں ان دونوں جڑواں بہنوں کو 16 گھنٹے کی طویل سر جری کے بعد دو الگ اجسام پر مبنی شناخت مل گئی ہے۔ سرجری کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر الربیح تھے۔

ڈاکٹر ربیح نے اس غیر معمولی سرجری کے بارے میں بتایا ہے معاملہ شاہ سلمان ریلیف کی ٹیموں کے سامنے ان کی معمولی امدادی طبی سرگرمیوں کے دوران سامنے آیا تھا۔ جس کے بعد ان دونوں باہم جڑی ہوئی بچیوں کا معائنہ کیا گیا۔ ان کے جسم پیٹ کی طرف سے باہم جڑے ہوئے تھے۔ جبکہ دونوں کی ٹانگیں ایک ایک تھیں۔ یہ سرجری شاہ عبدالہہ سپیشلائزڈ چلدرن ہسپتال میں 16 گھنٹے جاری رہی۔

ڈاکٹروں کی ٹیم کے سربراہ نے کہا یہ طریقہ سرجری انتہائی پیچیدہ ہے۔ اس میں کامیابی کا امکان ساٹھ فیصد تک ہے۔ ان کے مطابق یہ اس نوعیت کی سرجری کا تیسرا واقعہ ہے۔ 1990 سے چلڈرن ہسپتال میں اس سے پہلے دو سرجریز کی گئی تھیں۔

ڈاکٹر ربیح نے بتایا 28 مختلف ملکوں کے 157 بچوں کی پیچہدہ سرجریں کی گئی ہیں۔ مگر یہ اپنی نوعیت کی تیسری سرجری تھی ، اس سے قبل ماہ اپریل میں ہی فلپائن سے تعلق رکھنے والے دو جڑاواں بچوں کی 18 گھنٹے طویل سرجری مکمل کی گئی تھی۔ فلپائینی بچوں کی سرجری بھی کامیاب رہی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں