لبنانی وزیرِ اعظم نواف سلام کل ہفتے کے روز شام کے دارالحکومت دمشق کا ایک سرکاری دورہ کریں گے۔ چند گھنٹوں پر محیط اس دورے کے دوران وہ شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات کریں گے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نواف سلام کے ہمراہ ایک وزارتی وفد اور متعدد کاروباری شخصیات بھی ہوں گی، جو سکیورٹی، سیاسی اور اقتصادی و تجارتی معاملات پر تبادلہ خیال کریں گی۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دورے میں کسی مشترکہ معاہدے پر دستخط نہیں ہوں گے کیونکہ وہ ابھی تک تیار نہیں ہیں۔
مذاکرات کی میز پر سب سے اہم موضوع سرحدوں کا انتظام اور مشترکہ سکیورٹی چیلنج ہوں گے، خاص طور پر حالیہ عرصے میں شامی حکام کی جانب سے سرحد کے قریب حزب اللہ کی فوجی سرنگوں کی دریافت کے بعد یہ معاملہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان سرکاری سرحدی گزرگاہوں کے کنٹرول اور ہر قسم کی اسمگلنگ، بالخصوص اسلحہ کی روک تھام پر بات ہو گی۔ واضح رہے کہ "المصنع" بارڈر کراسنگ گذشتہ جنگ کے دوران اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں کا مرکز رہی تھی تاکہ اسے اسرائیلی حملوں سے بچایا جا سکے، کیونکہ اسرائیل نے اسے حزب اللہ کے فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔
با وثوق ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ شام کے اندر حزب اللہ سے وابستہ ان گروہوں (سیلز) کا انکشاف جو سکیورٹی حالات خراب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور سرحد کے ساتھ موجود سرنگوں کا معاملہ ... بات چیت کا محور ہو گا۔ دونوں ممالک سرحدوں کو مضبوط بنانے اور سکیورٹی میں کسی بھی قسم کے خلل کو روکنے میں مشترکہ مفاد رکھتے ہیں۔ شام اور لبنان کے درمیان المصنع، العريضہ، الدبوسیہ، تلکلخ اور جوسیہ جیسی اہم سرحدی گزرگاہیں دونوں ملکوں کے لیے تجارتی اور عوامی نقل و حرکت کے حوالے سے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
سرحدی معاملات کے علاوہ نواف سلام شام سے بجلی کے حصول پر بھی بات کریں گے۔ سابقہ نظام کے دور میں امریکی پابندیوں کی وجہ سے یہ منصوبہ رک گیا تھا، تاہم اب لبنان، شام اور اردن کے درمیان ایک سہ فریقی معاہدے کے ذریعے لبنان کی بجلی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ لبنانی وزیرِ اعظم شامی حکام کے ساتھ قیدیوں کی واپسی کے معاملے پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔ یاد رہے کہ فروری 2026 میں طے پانے والے عدالتی تعاون کے معاہدے کے تحت لبنان اب تک شامی قیدیوں کی پہلی کھیپ (تقریباً 137 افراد) شام کے حوالے کر چکا ہے۔
لبنان اور شام کے درمیان دفاع، سکیورٹی اور معیشت سمیت مختلف شعبوں میں 42 معاہدے موجود ہیں، جن میں شام میں ڈیڑھ سال قبل آنے والی سیاسی تبدیلیوں کے تناظر میں اب نظرِ ثانی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔