جنوب میں شدید بمباری کے بعد اسرائیل کا مشرقی لبنان میں بھی حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ "العربیہ" کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ اسرائیل نے ملک کے مشرق میں واقع بقاع میں نبی شیت گاؤں کے قریب مشرقی پہاڑی سلسلے کے مضافات پر حملہ کیا ہے۔

اس سے قبل جنوب میں بھی شدید بمباری کی گئی تھی۔ اس کے مقابلے میں حزب اللہ نے جمعہ کو دونوں فریقوں کے درمیان جنگ بندی کے سائے میں اس ہفتے بیروت کے جنوبی مضافات پر اسرائیلی حملے اور اپنے ایک فوجی کمانڈر کے قتل کے جواب میں شمالی اسرائیل میں ایک فوجی اڈے پر راکٹ داغنے کا اعلان کیا۔

حزب اللہ نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی، بیروت کے جنوبی مضافات کو نشانہ بنانے اور جنوبی لبنان کے دیہاتوں اور شہریوں پر حملوں کے جواب میں اس کے ارکان نے نہاریا بستی کے جنوب میں واقع "شراگا" اڈے کو راکٹوں سے نشانہ بنایا۔

جنوبی لبنان پر گولہ باری

جمعہ کے روز ہی جنوبی لبنان کے کئی قصبوں پر اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ "العربیہ" کے نامہ نگار کے مطابق اسرائیلی بمباری المنصوری اور بیوت السیاد کے مضافات کے علاوہ معرکہ، دیر عامص، یحمر شقیف، عیتیت اور الشعتیہ وغیرہ تک پہنچی۔

دریں اثنا اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ لبنان کے ساتھ سرحد کے قریب اسرائیل کے اندر حزب اللہ کے ڈرون کے دھماکے سے دو فوجی زخمی ہوگئے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔ فوج نے ایک بیان میں کہا کہ وہ لبنان سے شمالی علاقوں کی طرف فائرنگ کا مقابلہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

بعد ازاں العربیہ کے نامہ نگار نے اطلاع دی کہ حزب اللہ کی جانب سے شمالی اسرائیل کی طرف داغے گئے دو میزائلوں کو روک لیا گیا، اس دوران کئی شہروں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔

رضوان فورس کے کمانڈر کا قتل

اسرائیلی فوج نے جمعرات کو باضابطہ طور پر اعلان کیا تھا کہ اس نے بدھ کی شام بیروت کے جنوبی مضافات میں غبیری کے علاقے پر ایک درست فضائی حملے میں حزب اللہ کی رضوان فورس کے آپریشنز کمانڈر مالک بلوط کو قتل کر دیا ہے۔ واضح رہے یہ تقریباً ایک ماہ کے دوران بیروت کے جنوبی مضافات پر پہلا حملہ ہے۔

2 مارچ سے

توقع کی جارہی ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان اگلے ہفتے 14 اور 15 مئی کو واشنگٹن میں مذاکرات کا نیا دور ہوگا۔ اس سے قبل گزشتہ ہفتوں کے دوران واشنگٹن میں سفیروں کی سطح پر دو دور ہو چکے ہیں۔ یاد رہے ایک طرف ایران اور دوسری طرف اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ اس وقت لبنان تک پھیل گئی تھی جب حزب اللہ نے دو مارچ کو ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کے جواب میں شمالی اسرائیل پر راکٹ داغے تھے۔

حزب اللہ کی کارروائی کے جواب میں اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافات اور ملک کے مشرق میں واقع بقاع اور جنوب کے دیہاتوں پر شدید فضائی حملے کیے تھے۔ تاہم 17 اپریل سے جنگ بندی کا ایک نیا معاہدہ نافذ العمل ہے جس کی مدت 10 دن مقرر تھی لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد اس میں 3 ہفتوں کی توسیع کا اعلان کیا ہے۔

اس جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کو نشانہ بنا رہا ہے۔ لبنان کے سرحدی قصبوں میں دھماکوں کی کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب حزب اللہ نے ملک کے جنوبی حصوں پر قابض اسرائیلی افواج پر حملے کیے اور اسرائیلی بستیوں کی طرف ڈرون بھیجے ہیں۔

واضح رہے یہ حالیہ محاذ آرائی 2023 سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دوسری بڑی لڑائی تھی جب دونوں فریق غزہ کی پٹی میں جنگ کے تناظر میں ایک سال سے زائد عرصے تک آمنے سامنے رہے تھے۔ نومبر 2024 میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے باوجود اسرائیل نے حملے جاری رکھے جن میں سینکڑوں افراد جان بحق ہوگئے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ حزب اللہ کے ارکان اور اس کے فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں