اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی انتظامیہ سے کہا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام ختم کیے بغیر اس سے معاہدہ "کافی نہیں ہو گا،" العربیہ نے ہفتے کے روز اس معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے یہ خبر دی ہے۔
ایران کے ساتھ امن مذاکرات پر تل ابیب اور واشنگٹن کے درمیان اختلافات کی خبروں کے درمیان یہ پیش رفت سامنے آئی ہے۔
نامعلوم ذرائع نے مبینہ طور پر یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ اسرائیل نے ایران سے اپنی جنگ مزید بڑھانے کے ممکنات بشمول توانائی کی تنصیبات پر حملوں سے متعلق تبادلۂ خیال کیا ہے نیز یہ کہ وہ مذاکرات کو طول نہیں دینا چاہتا۔
دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں "جمعے کی رات" تک واشنگٹن کی تازہ ترین تجویز پر ایران کا جواب ملنے کی توقع تھی۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے باہر نامہ نگاروں کو بتایا، "مجھے آج رات ایک خط موصول ہو رہا ہے تو ہم دیکھیں گے کہ یہ معاملہ کیسے آگے بڑھتا ہے۔"
امریکہ نے جمعہ کے روز دو ایرانی پرچم بردار ٹینکرز پر فائرنگ کر کے انہیں ناکارہ بنا دیا تھا جنہوں نے اس کے مطابق ایرانی بندرگاہوں پر امریکی مسلط کردہ ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے پاکستان نے ثالث کا کردار ادا کیا ہے لیکن کسی بھی فریق نے تاحال امن تجاویز پر اتفاق نہیں کیا۔ تاہم ایک نازک جنگ بندی کسی حد تک برقرار ہے۔