سعودی عرب : سیکیورٹی فورسز کا غیر قانونی عازمین حج کے خلاف کریک ڈاؤن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ہر سال کی طرح امسال بھی سیکیورٹی فورسز نے غیر قانونی عازمین حج کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ کریک ڈاؤن کا مقصد حج امور کو انتظامات کے مطابق محفوظ اور رواں رکھنے لیے ان عازمین کو روکنا ہے جو بغیر اجازت یا غیر قانونی طور پر مکہ پہنچے ہیں یا اس کوشش میں ہیں۔

اس سے پہلے بھی سیکیورٹی فورسز کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ مبینہ غیر قانونی عازمین حج کو حراست میں بھی لیا جا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ ان کے لیے سہولت کاری کرنے والوں یا مدد دینے والوں کو بھی حراست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ نیز ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔

سعودی خبر رساں ادارے 'ایس پی اے' کے مطابق مکہ کی پولیس نے اس سلسلے میں ابتدائی کارروائیاں کرتے ہوئے 18 افغانی اور پاکستانی شہریوں کو حراست میں لیا ہے۔ ان زیر حراست لیے گئے افراد سے نسک کارڈز اور حاجیوں کی کلائی پر باندھے جانے والے 'رسٹ بینڈز' بھی قبضے میں لیے گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق ایک انڈونیشیا کے شہری کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ شہری جعلی حج دستاویزات کی تیاری سوشل میڈیا کے ذریعے کرنے کے کام میں ملوث تھا۔
ایک اور کارروائی کر کے سعودی سیکیورٹی حکام نے 5 افغانیوں کو حراست میں لیا ہے۔ یہ بھی قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مکہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، ان کی یہ کوشش مکہ کے صحرائی حصے سے پیدل داخل ہونے کی تھی۔ جبکہ ان کے پاس ضروری حج دستاویزات موجود نہیں تھیں۔
'ایس پی اے' کے مطابق جن افراد کو اب تک گرفتار کیا گی ہے ان کے خلاف مقدمات بنا کر انہیں پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ تاکہ قانونی و عدالتی کارروائی آگے بڑھ سکے۔

پبلک سیکیورٹی کے ڈی جی نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ حج قوانین کی مکمل پاسداری کو یقینی بنائیں۔ جس کسی بھی غیر قانونی عازم حج کے بارے میں انہیں اطلاع ملے حکام کو مکہ میں فون نمبر 911 پر آگاہ کریں۔ جبکہ مدینہ اور مشرقی صوبے یا کسی بھی اور علاقے میں فون نمبر 999 پر مطلع فرمائیں۔

سعودی وزارت داخلہ نے حج قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کو دو ہزار ریال سے ایک لاکھ ریال تک جرمانے کی سزا کا اعلان کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں