سعودی عرب کاشہدکی پیداوارمیں خودکفالت کی جانب قدم، 5 نئے منصوبوں کے لیے 38 ملین ریال مختص

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی عرب کے دیہی ترقیاتی پروگرام نے شہد کی مکھیوں کی افزائش اور شہد کی پیداوار کے شعبے میں پانچ بڑے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا اعلان کیا ہے۔ ان منصوبوں پر 38.2 ملین ریال سے زائد کی لاگت آئی ہے اور اب انہیں مملکت کے مختلف علاقوں میں فعال کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ان کوششوں کا مقصد مقامی شہد کی پیداوار میں اضافہ، قومی نسلوں کا تحفظ اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے، جو سعودی ویژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔

پروگرام کے ترجمان ماجد البریکان نے اس بات پر زور دیا کہ شہد کی پیداوار کا شعبہ ان امید افزا شعبوں میں شامل ہے جنہیں پروگرام چھوٹے نحالین (مکھی پالنے والوں) کی مدد، ویلیو چین کی کارکردگی بڑھانے اور پیدا کنندگان کو مصنوعات کا معیار بہتر بنا کر ان کی مارکیٹنگ میں وسعت دینے کے ذریعے تیار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکمل ہونے والے یہ منصوبے اس شعبے کی ترقی اور خودکفالت کے حوالے سے ایک معیاری قدم ہیں۔

ملکہ مکھیوں کی افزائش کے مراکز

ماجد البریکان نے وضاحت کی کہ ان پانچ منصوبوں میں عسیر، جازان، مدینہ منورہ، حائل اور تبوک کے علاقوں میں ملکہ مکھیوں کی افزائش اور ان کے جھنڈ (پارسلز) کی پیداوار کے اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ نجران اور طائف میں مزید دو منصوبے زیر تکمیل ہیں، جبکہ الباحہ میں ملکہ مکھیوں کے اسٹیشن پر تعمیراتی کام جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملکہ مکھیوں کی پیداوار اور ان کی افزائشِ نسل کے مراکز کے قیام سے مقامی مکھیوں کی تعداد میں اضافہ، قومی نسلوں کا تحفظ اور اس شعبے کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے میں مدد ملے گی، جو مملکت میں شہد کی صنعت کے استحکام کا ضامن ہے۔

مکھی پالنے والوں کی مدد اور روزگار کے مواقع

ترجمان نے مزید بتایا کہ ان منصوبوں کے اقتصادی اور فنی ثمرات اس شعبے سے وابستہ افراد تک پہنچیں گے۔ ان مراکز کے ذریعے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور نحالین کو جدید طریقوں اور ٹیکنالوجی کی تربیت دی جائے گی۔ مزید برآں، مقامی ماحول کے مطابق ڈھلنے والی مکھیوں کی نسلوں کو ترقی دے کر ان کی پیداواری خصوصیات کو بہتر بنایا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ منصوبے زرعی فصلوں کی پولی نیشن (بارآوری) میں مکھیوں کے کردار کو بڑھانے اور حیاتیاتی تنوع کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ اس کے علاوہ درآمدات پر انحصار ختم کر کے سارا سال مقامی شہد فراہم کیا جا سکے گا اور مکھیوں کی افزائش کے لیے روایتی طریقوں کے بجائے جدید ٹیکنالوجی اور ترقی یافتہ خلیوں کا استعمال عام کیا جائے گا تاکہ پیداوار کی شرح میں اضافہ ہو سکے۔

روشن مستقبل کا حامل شعبہ

دیہی ترقیاتی پروگرام مملکت کے مختلف علاقوں میں نحالین اور شہد کے چھوٹے پیدا کنندگان کو بااختیار بنانے کے لیے اپنے اقدامات اور منصوبوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی اور مقامی نسلوں کی ترقی کے ذریعے شہد اور اس کی مصنوعات میں خودکفالت کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ سعودی ویژن 2030 کے مطابق غذائی تحفظ کے نظام کو مستحکم کیا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں