برسوں کے انتظار اور ناکامیوں کے بعد پاکستانی حاجی بالآخر 66 سال کی عمر میں حج پر روانہ

سرکاری حج کوٹے کے تحت منتخب ہونے والے آخری حاجی کے طویل انتظار کی داستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

تقریباً ایک عشرے تک صفدر خان ایک ہی امید پر قائم رہے: حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنا۔

لیکن 66 سالہ ریٹائرڈ پاکستانی کو ناکام درخواستوں، کورونا وائرس کی وبا، مالی مشکلات اور ذاتی المیوں کی وجہ سے اس سفر میں بار بار تاخیر ہوتی رہی۔ آخر وہ اس سال پاکستان کے سرکاری حج کوٹہ کے تحت آخری حاجی کے طور پر منتخب ہوئے۔

اسلام آباد کے قریب راولپنڈی کے گیریژن سٹی کے رہائشی خان نے پہلی بار 2016 میں حج درخواست دی اور سالوں تک کوشش کرتے رہے لیکن کامیابی نہ ملی۔

جب بالآخر 2019 میں وہ منتخب ہوئے تو سعودی عرب نے بعد میں کورونا وائرس کی وجہ سے کافی پابندیاں عائد کر دیں جس سے حجاج کی تعداد میں تیزی سے کمی واقع ہوئی اور پاکستان خان سمیت ہزاروں عازمینِ حج کو جمع شدہ رقم واپس کرنے پر مجبور ہو گیا۔

اس کے بعد کے سالوں میں اور بھی زیادہ مشکلات پیش آئیں۔

خان اپنی ملازمت سے ریٹائر ہو گئے، ان کی زوجہ دنیا سے رخصت ہو گئیں اور وہ مالی مشکلات کا شکار ہو گئے جن سے وہ اس حج کے متحمل نہیں ہو سکے جس کی امید میں انہوں نے برسوں گذارے تھے۔

اسلام آباد کے حاجی کیمپ میں قبل از حج تربیتی سیشن میں شرکت کے دوران خان نے عرب نیوز کو بتایا، "اس سال بھی میں مقررہ وقت تک درخواست نہیں دے سکا کیونکہ میں 18 اگست کی آخری تاریخ تک 1.2 ملین روپے جمع نہیں کر سکا تھا۔"

خان کو لگا کہ درخواست کی آخری تاریخ گذر جانے کے بعد موقع ایک بار پھر ان کے ہاتھ سے نکل گیا تھا۔ بعد میں انہوں نے ایک مشکل کوٹہ کے تحت درخواست دی جو ادائیگی یا دستاویزات جمع کروانے میں تاخیر جیسے غیر معمولی معاملات کے لیے مختص ہے۔

انہوں نے کہا، "جس دن [فروری میں] میں نے درخواست دی، مجھے ایک افسوسناک پیغام موصول ہوا کہ مجھے اس سال حج کے لیے دیر ہو گئی۔ لیکن اگلے ہی دن انہوں نے مجھے ایک پیغام اور خط بھیجا کہ مجھے قبول کر لیا گیا تھا اور مجھے جلدی سے انتظامات مکمل کر لینے کا مشورہ دیا۔"

تب بھی یہ کام آسان نہیں تھا۔

ابتدائی طور پر خان کو بتایا گیا کہ انہیں پاکستان کے جنوبی بندرگاہی شہر کراچی سے روانہ ہونا ہو گا جو راولپنڈی میں ان کے گھر سے 1,100 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر ہے۔ لیکن وہ اضافی مسافت طے کرنے کے لیے تیار ہو گئے کیونکہ اس کا مطلب آخرِکار سعودی عرب پہنچنا تھا تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ اسلام آباد میں ایک نشست دستیاب تھی۔

انہوں نے کہا، "مجھے بہت خوشی محسوس ہوئی۔ یہ ایک فرض ہے اور اللہ نے مجھے اس کے لیے بلایا ہے۔"

غیر یقینی کیفیت کے طویل عرصے کو یاد کرتے ہوئے خان نے کہا کہ وہ اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے مسلسل دعا کرنے کو کہتے تھے اور کبھی بھی پوری طرح امید کا دامن نہیں چھوڑا۔

انہوں نے 2016، 2017 اور 2018 میں پاکستان کے کمپیوٹرائزڈ حج قرعہ اندازی کے عمل میں ناکامی کو یاد کیا۔ آخرِ کار وہ 2019 میں منتخب ہو گئے لیکن کووڈ-19 وبائی مرض نے ان کے ارادوں پر پھر پانی پھیر دیا۔

انہوں نے کہا کہ "میں اپنی ملازمت سے ریٹائر ہو گیا تھا اور بیوی کے انتقال کے بعد مجھے اپنے گھر کے معاملات دیکھنے پڑے۔ پھر میں مقدس سفر کے متحمل ہونے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔"

اس سال دوستوں، بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں نے حج کے لیے درکار رقم جمع کرنے میں ان کی مدد کی۔

"اب مجھے لگتا ہے کہ اللہ جو بھی کرتا ہے وہ آپ کے لیے اچھا ہوتا ہے،" انہوں نے خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ آخرِ کار وہ سفر کرنے کے قابل ہو گئے ہیں جس کا انہوں نے برسوں انتظار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں