لبنان میں بشار الاسد کے سابقہ نظام کے سکیورٹی اور فوجی باقیات یا نام نہاد "فلول" کی فائل ایک بار پھر بحث کی میز پر واپس آ گئی ہے۔ یہ پیش رفت وزیر اعظم نواف سلام کے گذشتہ ہفتے کے آخر میں ایک وزارتی وفد کے ہمراہ دمشق کے سرکاری دورے کے بعد سامنے آئی ہے۔
لبنانی اور شامی فریقین نے دونوں ممالک کی خود مختاری کے احترام اور سکیورٹی کو متزلزل کرنے والے معاملات کو حل کرنے کی بنیاد پر دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
رئيس الوزراء اللبناني نواف سلام لـ "العربية": كبار رموز نظام "الأسد" ليسوا في لبنان وأغلبهم داخل روسيا ودول أخرى.. وهناك عدد آخر لدينا وسنعمل على منعهم من استخدام بيروت كمنصة للإساءة إلى دمشق أو تنظيم أي عمل سياسي أو عسكري ضدها pic.twitter.com/hE23cR1Ayx
— العربية (@AlArabiya) May 11, 2026
اس حوالے سے نواف سلام کا العربیہ کو دیا گیا بیان توجہ کا مرکز رہا جس میں انہوں نے کہا کہ اسد رجیم کی بڑی شخصیات لبنان میں نہیں بلکہ ان کی اکثریت روس اور دیگر ممالک میں موجود ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لبنانی سرزمین پر کچھ لوگ موجود ہیں لیکن حکومت انہیں بیروت کو دمشق کے خلاف استعمال کرنے یا کسی بھی قسم کی سیاسی و عسکری سرگرمی کے لیے پلیٹ فارم بنانے سے روکے گی۔
شمالی لبنان اور بقاع میں 100 افسران کی موجودگی
اعلیٰ سرکاری ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو تصدیق کی ہے کہ ان افسران میں سے تقریباً ایک سو افراد اسد حکومت کے خاتمے کے دوران بقاع اور شمالی لبنان کے غیر قانونی راستوں سے داخل ہوئے۔ ان کی بڑی تعداد مشرقی لبنان کے بقاع اور شمالی علاقوں میں مقیم ہے۔
ذرائع نے صرف اتنا بتانے پر اکتفا کیا کہ وہ سکیورٹی اداروں کی نگرانی میں ہیں تاہم العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ملنے والی خصوصی معلومات کے مطابق یہ افسران شمالی لبنان کے علاقوں جبل محسن اور عکار کے سرحدی دیہات جیسے حکر الضاہری اور تل بیری کے علاوہ صوبہ بعلبک ہرمل کے دیہات میں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
حزب اللہ اور اتحادیوں کے زیر اثر علاقے
سرکاری ذرائع نے وضاحت کی کہ ان افسران نے ان علاقوں میں پناہ لی ہے جہاں ان کے اتحادیوں یعنی علوی برادری اور حزب اللہ کا گہرا اثر و رسوخ پایا جاتا ہے۔
ذرائع نے مزید تصدیق کی کہ یہ معاملہ گذشتہ ہفتے شام اور لبنان کے مذاکرات کا حصہ تھا۔ دونوں ممالک کی وزارت داخلہ اور وزارت انصاف ایک مشترکہ معاہدہ تیار کریں گی جس کے تحت ان کی واپسی عمل میں لائی جائے گی تاکہ اسد نظام کے باقیات کی فائل مستقل طور پر بند کیا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ہم لبنانی سرزمین پر کسی ایسے شخص کو رہنے کی اجازت نہیں دیں گے جو شام کے خلاف کام کرے، لبنان کبھی بھی عرب ممالک کے خلاف کام کرنے والی ملیشیاؤں کا اڈہ نہیں بنے گا۔
دو طرفہ عدالتی معاہدے کی فعالیت
انسانی حقوق کی کارکن اور وکیل دیالا شحادہ کے مطابق لبنان کے لیے اپنی بین الاقوامی انسانی ذمہ داریوں کے حوالے سے یہ مناسب ہو گا کہ وہ شام کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے دو طرفہ عدالتی معاہدے پر عمل کرے۔ شامی عدلیہ ان افراد کی فہرست فراہم کر کے ان کی حوالگی کا مطالبہ کر سکتی ہے جنہوں نے شام میں جرائم کیے ہوں، تاکہ اس معاملے کو سیاسی کے بجائے قانونی شکل دی جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی شامی شہری چاہے وہ سویلین ہو یا فوجی افسر، کی حوالگی کے لیے دونوں ممالک کی وزارت عدل کے درمیان سرکاری رابطہ اور قانونی طریقہ کار ضروری ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ لبنان صرف سیاسی جرائم یا رائے کی آزادی سے متعلق معاملات میں حوالگی سے انکار کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ سنہ 1951ء میں لبنان اور شام نے ایک عدالتی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت عدالتی معلومات کا تبادلہ اور قیدیوں کی حوالگی کا طریقہ کار طے کیا گیا تھا۔
رواں سال کے آغاز میں خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے شامی ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا تھا کہ دمشق نے لبنان فرار ہونے والے سابقہ نظام کے 200 افسران کی فہرست ارسال کی تھی۔ اس کے بعد سے ان خدشات میں اضافہ ہو گیا تھا کہ لبنان سے شامی حکومت کے خلاف دوبارہ عسکری صف بندی کی کوششیں کی جا سکتی ہیں۔