جنگ بندی کے اعلان کے باوجود خطے میں سکون قائم نہیں ہو سکا۔ اپریل سے نافذ معاہدے کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
اس دوران اسرائیلی فضائیہ نے الجیہ ساحلی شاہراہ پر ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جو بیروت کو جنوبی شہر صیدا سے ملاتی ہے، جبکہ جبل لبنان کے علاقے السعدیات میں بھی ایک اور گاڑی پر حملہ کیا گیا۔
اس کے علاوہ جنوبی لبنان کے متعدد علاقوں عربصالیم، شقرا، برعشیت، الحَلوسیہ اور دیگر مقامات پر بھی فضائی حملوں کی اطلاعات ہیں۔
یہ کارروائیاں اس وقت ہوئیں، جب اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے 6 دیہات کے رہائشیوں کو انخلا کا انتباہ جاری کیا۔
فوجی ترجمان افخائی ادرعی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس ''پر کہا کہ معشوق، یانوح، برج الشمالی، حلوسیہ الفوقا، دبّعال اور العباسیہ کے رہائشی کم از کم 1000 میٹر دور کھلے علاقوں کی طرف منتقل ہو جائیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے حزب اللہ پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسی وجہ سے اس کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
#عاجل ‼️انذار عاجل الى سكان لبنان المتواجدين في البلدات والقرى التالية: معشوق, يانوح, برج الشمالي, حلوسية الفوقا, دبعال, عباسية
— افيخاي ادرعي (@AvichayAdraee) May 13, 2026
🔸في ضوء قيام حزب الله الارهابي بخرق اتفاق وقف اطلاق النار يضطر جيش الدفاع على العمل ضده بقوة. جيش الدفاع لا ينوي المساس بكم.
🔸حرصًا على سلامتكم،… pic.twitter.com/aGCVZJl83d
اسرائیلی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ جو بھی حزب اللہ کے اہلکاروں، تنصیبات یا ہتھیاروں کے قریب موجود ہوگا، وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈالے گا۔
دریائے لیتانی پر عملیاتی کنٹرول
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے دریائے لیتانی کے علاقے میں ''عملیاتی کنٹرول مکمل کر لیا ہے'' ۔اسرائیلی دعوے کے مطابق گزشتہ روز منگل کو کہا گیا کہ دریائے لیتانی کے علاقے میں آپریشنل کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی فوج نے لیتانی دریا کے اوپر انجینئرنگ نوعیت کے کام کیے ہیں جن کا مقصد مستقبل میں بکتر بند گاڑیوں اور پیدل فوج کے گزرنے کو ممکن بنانا ہے۔ یہ بات اسرائیلی چینل 14 نے رپورٹ کی ہے۔
یاد رہے کہ 16 اپریل کو جنگ بندی کے آغاز کے باوجود اسرائیل نے جنوبی لبنان پر حملے جاری رکھے ہیں اور متعدد دیہات میں فضائی حملے اور گھروں و قصبوں کی مسماری بھی کی گئی ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنایا ہے اور شمالی اسرائیل کی طرف راکٹ اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2 مارچ سے شروع ہونے والی جھڑپوں کے بعد، جب حزب اللہ نے اسرائیلی بستیوں پر راکٹ فائر کیے (جسے اس نے ایرانی رہنما علی خامنہ ای کے مبینہ قتل کے جواب کے طور پر بیان کیا) اور اس کے بعد اسرائیل کی شدید جوابی کارروائیوں میں کم از کم 2846 افراد ہلاک اور 8693 زخمی ہوئے ہیں، یہ اعداد و شمار لبنان کی وزارت صحت کے مطابق ہیں۔
لبنانی حکومت کے مطابق اسرائیلی فوج اس وقت جنوبی لبنان میں 68 مقامات پر قابض ہے۔اس دوران توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ دو دنوں میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں سفیروں کی سطح پر براہِ راست مذاکرات ہوں گے، جبکہ صورتحال میں کشیدگی اور اسرائیلی حملے جاری ہیں۔
حزب اللہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان مذاکرات سے دستبردار ہو اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران مذاکرات نہ کیے جائیں۔
-
مشرقی لبنان کے قصبے سحمر کے مکینوں کو علاقہ خالی کرنے کااسرائیلی حکم
اسرائیلی فوج نے مشرقی لبنان کے علاقے البقاع میں واقع قصبے سحمر کے مکینوں کو ایک ...
مشرق وسطی -
اسرائیلی فوج کی جنوبی لبنان کے دریائے لیطانی کے ساتھ چھاپہ مار کارروائیاں
اسرائیلی فوج نے منگل کو کہا ہے کہ اس کے فوجیوں نے جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی کے ...
مشرق وسطی -
اسرائیل نے بیروت کے جنوب میں ہائی وے پر گاڑیوں کو نشانہ بنایا: سرکاری میڈیا لبنان
سرکاری میڈیا نے بتایا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے باوجود بیروت ...
مشرق وسطی