18 دہشتگرد حملوں کے الزامات، واشنگٹن میں "حزب اللہ العراقی" کے اہم رہنما کی گرفتاری

محمد باقر سعد داؤد السعدی ماضی میں قاسم سلیمانی کے ساتھ قریبی ساتھی کے طور پر کام کرتا رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی حکام نے جمعے کے روز اعلان کیا ہے کہ ایران نواز عراقی تنظیم ''کتائب حزب اللہ'' کے ایک اہم رہنما کو امریکا، کینیڈا اور یورپ میں حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان حملوں میں یہودی مقامات کو نشانہ بنانے کے منصوبے بھی شامل تھے۔

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کے مطابق محمد باقر سعد داؤد السعدی جسے کتائب حزب اللہ عراق کا اہم عہدیدار قرار دیا گیا، ایک انتہائی اہم ہدف تھا، جو عالمی سطح پر دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث رہا۔

واضح رہے کہ امریکا کتائب حزب اللہ کو ایک ''دہشتگرد تنظیم ''قرار دیتا ہے، جبکہ یہ گروہ عراق اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی موجودگی والے اڈوں پر ڈرون اور راکٹ حملوں کی ذمہ داری اکثر قبول کرتا رہا ہے۔

امریکی وزارتِ انصاف کے مطابق السعدی کو گرفتار کر کے امریکا منتقل کیا گیا، تاہم گرفتاری کے مقام اور وقت کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔

جمعے کے روز اسے نیویارک کی وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا ،جہاں جج نے اس پر دہشتگردی سے متعلق چھ الزامات عائد کرتے ہوئے اسے عدالتی حراست میں بھیج دیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ 32 سالہ عراقی شہری اور اس کے ساتھیوں نے کم از کم یورپ میں 18 دہشتگرد حملوں اور کینیڈا میں 2 حملوں کی منصوبہ بندی، رابطہ کاری اور ذمہ داری قبول کی۔ یہ حملے مبینہ طور پر 28 فروری کو ایران پر امریکا اور اسرائیل کے فوجی حملے کے ردعمل میں کیے گئے۔

وزارت انصاف نے لندن میں اپریل کے آخر میں دو یہودی افراد پر چاقو حملے کے واقعے کا بھی ذکر کیا، جس کے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور وہ مقدمے کا انتظار کر رہا ہے۔

اسی طرح ایمسٹرڈیم، میونخ اور دیگر شہروں میں یہودی عبادت گاہوں، اسرائیلی دکانوں اور یہودی اسکولوں پر آتشزدگی یا آتشزدگی کی کوششوں کا بھی حوالہ دیا گیا۔

امریکی حکام کے مطابق السعدی کا ان حملوں میں درست کردار ابھی مکمل طور پر واضح نہیں، تاہم عدالتی دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ مختلف حملوں کے بعد سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے پروپیگنڈا ویڈیوز سے اس کے روابط سامنے آئے۔

ایف بی آئی کے ایک خفیہ اہلکار کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں السعدی نے اعتراف کیا کہ وہ یا اس کے ساتھی یورپ اور کینیڈا میں ہونے والے حملوں میں ملوث تھے۔


امریکا میں ممکنہ حملوں کے حوالے سے الزام ہے کہ السعدی نے ایک خفیہ ایجنٹ کو نیویارک کے ایک بڑے یہودی عبادت خانے سمیت لاس اینجلس اور اسکاٹس ڈیل (ایریزونا) میں دو یہودی اداروں کی تصاویر اور نقشے فراہم کیے اور ان مقامات پر دہشتگرد حملے کرنے کی ہدایت دی۔

رپورٹ کے مطابق اس نے نیویارک کے عبادت خانے پر حملے کے طریقہ کار پر بھی گفتگو کی، جس میں دیسی ساختہ بم استعمال کرنے کا ذکر کیا گیا، تاہم کوئی حملہ عملی طور پر نہیں ہو سکا۔

امریکی وزارت انصاف کے مطابق محمد باقر سعد داؤد السعدی ماضی میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کے ساتھ قریبی طور پر کام کرتا رہا، جو جنوری 2020 میں بغداد ایئرپورٹ کے قریب امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ السعدی کئی مرتبہ کھلے عام امریکی شہریوں اور مفادات پر حملوں کی حمایت اور ترغیب دیتا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں