اسرائیلی افواج کی جانب سے صحرائے نجف میں ایک خفیہ ٹھکانہ قائم کرنے اور ایران کے خلاف جنگ میں اسے استعمال کرنے کے انکشاف پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد، عراقی حکام نے عراقی مغربی صحرا میں ایک اور اسرائیلی غیر علانیہ اڈے کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے۔
امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" کی آج اتوار کی رپورٹ کے مطابق علاقائی سکیورٹی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ اڈا امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان موجودہ جنگ کے آغاز سے پہلے کا قائم ہے، جسے جون 2025 میں تہران کے خلاف 12 روزہ جنگ کے دوران استعمال کیا گیا تھا۔
حکام نے مزید بتایا کہ اسرائیلی افواج نے 2024 کے اواخر سے ہی اس عارضی اڈے کی تعمیر کی تیاریاں شروع کر دی تھیں تاکہ مستقبل کے تنازعات کے لیے دور دراز مقامات کا تعین کیا جا سکے۔ اسرائیل اس اڈے کو فضائی مدد، ایندھن بھرنے اور طبی امداد کے لیے استعمال کرتا تھا۔ اس کا مقصد اسرائیلی طیاروں کا ایران تک کا فاصلہ کم کرنا تھا اور جون 2025 کی جنگ میں یہ اڈا انتہائی مؤثر ثابت ہوا۔
دوسری جانب دو عراقی سکیورٹی حکام نے بتایا کہ گذشتہ سال کی مختصر جنگ اور موجودہ تنازع کے دوران واشنگٹن نے عراق کو اپنے راڈار سسٹم بند کرنے پر مجبور کیا تاکہ امریکی طیاروں کا تحفظ کیا جا سکے، جس کی وجہ سے بغداد کسی بھی معاندانہ سرگرمی کی نگرانی کے لیے امریکی افواج پر زیادہ منحصر ہو گیا۔ اس کے برعکس عراقی سکیورٹی فورسز کے ترجمان میجر جنرل سعد معن نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ عراق کے پاس کسی بھی اسرائیلی فوجی اڈے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ 12 مئی کو کربلا آپریشنز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل علی الہاشمی نے انکشاف کیا تھا کہ نجف کے دیہی علاقے میں اترنے والی فورس امریکی ہتھیاروں سے لیس اسرائیلی فورس تھی۔ انہوں نے العربیہ/الحدث کو بتایا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے اطلاع ملتے ہی وہاں کا رخ کیا، لیکن 48 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں پہنچنے والی آرمی فورس کو وہاں کسی فوجی اڈے کے آثار نہیں ملے۔ اس سے قبل عراقی حکومت نے 11 مئی کو تصدیق کی تھا کہ عراقی افواج نے مارچ میں نامعلوم فورسز سے مقابلہ کر کے انہیں فضائی کور کے سائے میں پسپائی پر مجبور کیا تھا، اور اب عراقی سرزمیں پر کوئی غیر ملکی فورس موجود نہیں ہے۔
اسی دوران عراقی افواج اور الحشد الشعبی ملیشیا نے صحرائے نجف اور کربلا میں "فرضِ سیادت" کے نام سے ایک آپریشن شروع کیا ہے۔ الحشد الشعبی کے کمانڈر علی الحمدانی کے مطابق یہ آپریشن کربلا اور النخیب کے درمیانی راستے کو محفوظ بنانے کے لیے 4 محوروں پر کیا جا رہا ہے۔ عراقی سکیورٹی میڈیا سیل کے سربراہ نے 10 مئی کو واضح کیا تھا کہ یہ پورا معاملہ 5 مارچ 2026 کے ایک واقعے سے متعلق ہے، جہاں عراقی فورسز کا نامعلوم گروہ سے تصادم ہوا تھا جس میں ایک اہل کار ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔ تاہم گذشتہ دو ماہ کے دوران صحرائی علاقوں کی تلاشی میں کسی غیر قانونی فورس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
-
اربیل، عراق کے شمال میں ایرانی اپوزیشن کے ہیڈکوارٹر پر دو ڈرونز کا حملہ: سکیورٹی ذرائع
سکیورٹی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ دو ڈرونز نے جمعہ کو عراق کے شہر اربیل کے شمال ...
مشرق وسطی -
واشنگٹن سنجیدہ ہو گا تو مذاکرات کریں گے، جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں: عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ہم جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں اور ...
مشرق وسطی -
18 دہشتگرد حملوں کے الزامات، واشنگٹن میں "حزب اللہ العراقی" کے اہم رہنما کی گرفتاری
محمد باقر سعد داؤد السعدی ماضی میں قاسم سلیمانی کے ساتھ قریبی ساتھی کے طور پر کام ...
مشرق وسطی