وزارت حج کے زیر انتظام بدھ کو جدہ میں "گرانڈ حج سمپوزیم" کے 50ویں ایڈیشن کا انعقاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سعودی وزارت حج و عمرہ، سعودی سینئر علماء کونسل کے تعاون سے کل بروز بدھ جدہ شہر میں "گرانڈ حج سمپوزیم" کے پچاسویں ایڈیشن کا انعقاد کر رہی ہے۔ سمپوزیم میں عالم اسلام کے مختلف ممالک سے ممتاز شخصیات، علماء، مفکرین، محققین اور ماہرین شرکت کر رہے ہیں۔

یہ سمپوزیم اللہ کے مہمانوں کی خدمت کے لیے دانش مند قیادت کی جانب سے دی جانے والی عظیم حمایت اور حج کے نظام کو ایک جامع وژن کے مطابق تیار کرنے کی ان کی مسلسل خواہش کا تسلسل ہے، جو شعائرِ حج کی دیکھ بھال، خدمات کے معیار کو بلند کرنے، اور حجاج و معتمرین کی خدمت کے لیے علم، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کو بروئے کار لانے کو یکجا کرتا ہے۔

وزارت حج و عمرہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حج کے نظام کی ترقی صرف منصوبوں اور آپریشنل خدمات تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں ایک ایسے علمی و فکری بیانیے کی تشکیل بھی شامل ہے جو تیز رفتار تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو اور شرعی و انتظامی پہلوؤں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دے۔ جو سعودی عرب کے وژن 2030 سے ماخوذ اللہ کے مہمانوں کی خدمت پروگرام کے اہداف کے عین مطابق ہے۔

نصف صدی کی تبدیلیوں کا احاطہ کرنے والے 4 اہم موضوعات

یہ پچاسواں ایڈیشن چار اہم موضوعات کے گرد گھومتا ہے جو گذشتہ دہائیوں کے دوران حج کے نظام میں آنے والی تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں، جن میں : ضیوف الرحمن کی خدمات کا موضوع، شرعی توثیق و آگاہی کا موضوع، علم اور سائنسی تحقیق کا موضوع اور تاریخی یاد داشت کا موضوع شامل ہیں۔
یہ ایڈیشن اس مقام و مرتبہ کو ظاہر کرتا ہے جو اس سمپوزیم کو حاصل ہے، کیونکہ یہ 1397ھ (1977ء) میں اپنے آغاز کے بعد سے موسمِ حج کے ساتھ منعقد ہونے والے قدیم ترین علمی اور فکری پلیٹ فارمز میں سے ایک ہے۔ اس نے پانچ دہائیوں کے دوران ایک مسلسل علمی تحریک کی تعمیر میں حصہ لیا جس میں حج سے وابستہ شرعی، تنظیمی اور خدماتی امور کا احاطہ کیا گیا ہے۔

اس ایڈیشن کے سیشنز میں دہائیوں کے دوران ضیوف الرحمن کی خدمت کے نظام کو تیار کرنے میں سعودی عرب کی کوششوں، مناسک کی تنظیم میں اسلامی فقہ کے کردار اور آسانی پیدا کرنے کے پہلوؤں کے ساتھ ساتھ حجاج کے تجربے کے معیار کو بہتر بنانے میں آگاہی کے بیانیے اور اس کے اثرات پر بحث کی جائے گی۔

سمپوزیم میں اعلیٰ ترین عالمی معیارات کے مطابق حج کے نظام کو ترقی دینے کے رجحانات کے تحت، آپریشنل کارکردگی کو بڑھانے اور حج خدمات کے مستقبل کا اندازہ لگانے کے لیے علم، ڈیٹا اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

سمپوزیم کے پروگرام میں متعدد علمی سیشنز اور کلیدی تقاریر شامل ہیں، اس کے ساتھ ساتھ حج امور کے دفاتر کے سربراہان کا ایک خصوصی اجلاس اور بین الاقوامی حج کمپنیوں کا اجلاس بھی منعقد کیا جائے گا۔

ان ورکشاپس میں حجاج کے امور کے دفاتر کے ساتھ ہم آہنگی کی کارکردگی کو بڑھانے، بین الاقوامی سطح پر آگاہی کے رابطوں کو مضبوط بنانے اور مقامات مقدسہ کے اندر حجاج کی آمد و رفت اور نقل و حرکت کے انتظام میں ڈیجیٹل تبدیلیوں کا جائزہ لینے پر توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ حج سیزن کے دوران حجاج کے تجربے کو بہتر بنانے اور حفاظت و روانی کی سطح کو بلند کرنے میں سکیورٹی اور تنظیمی نظام کے کردار پر بحث کی جائے گی۔

سمپوزیم میں جدید آپریشنل ماڈلز کا بھی جائزہ لیا جائے گا جو ضیوف الرحمن کی خدمت کے نظام کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ ان میں قربانی کے گوشت کی تقسیم کی کارکردگی کو بڑھانا اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا شامل ہے۔

اس سمپوزیم کا پروگرام اپنے پچاسویں ایڈیشن میں حج کی خدمت میں منظم علمی کام کے نصف صدی کے سفر کا ایک دستاویزی اور تجزیاتی جائزہ پیش کرتا ہے۔ یہ سعودی عرب کے اس رجحان کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت علم کو ضیوف الرحمن کی خدمت کے نظام کی پائیدار ادارہ جاتی ترقی کا ایک بنیادی حصہ بنایا جا رہا ہے۔

گرانڈ حج سمپوزیم ... حج کی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ رہنے اور حجاج کی خدمات کے مستقبل کا تعین کرنے والے ایک عالمی علمی پلیٹ فارم کے طور پر اپنے مقام کو مستحکم کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے پیچھے سعودی حکومت کی جانب سے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت اور حرمین شریفین کے زائرین کی دیکھ بھال کے لیے کی جانے والی مسلسل کوششیں کارفرما ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں