اردنی فوج نے ملکی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ڈرون طیارے کو مار گرایا

کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ، صرف معمولی مادی نقصان واقع ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اردنی میں مسلح افواج نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے آج بدھ کی صبح اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک نا معلوم ڈرون طیارے کا مقابلہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اس طیارے کا مقابلہ کیا گیا اور اسے شمالی اردن کے صوبے جرش (بليلا) میں مار گرایا گیا"۔ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور "نقصانات صرف معمولی مادی نقصان تک محدود رہے"۔

اردنی فوج شام کے ساتھ اپنی 375 کلومیٹر طویل سرحد کے ذریعے منشیات کی اسمگلنگ کی کوششوں، بالخصوص کیپٹاگون گولیوں، جو بشار الاسد کے دور حکومت میں بڑے پیمانے پر تیار کی جاتی تھیں، کو ناکام بنانے کا باقاعدگی سے اور تقریباً روزانہ کی بنیاد پر اعلان کرتی ہے۔ اردن کا کہنا ہے کہ اسمگلنگ کی یہ کارروائیاں "منظم" ہوتی ہیں جن میں بعض اوقات ڈرون طیارے اور غبارے استعمال کیے جاتے ہیں اور انہیں مسلح گروہوں کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔ رواں مئی کے اوائل میں اردنی فوج نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے شام کے ساتھ اپنی شمالی سرحد پر ہتھیاروں اور منشیات کے سوداگروں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

گذشتہ 8 اپریل کو ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے یہ پہلا ڈرون ہے جسے اردن نے مار گرایا ہے۔ اردنی فوج نے اپریل کے اوائل میں اعلان کیا تھا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک ایران کی طرف سے 281 میزائلوں اور ڈرون طیاروں نے اردن کو نشانہ بنایا اور اس بات کی تصدیق کی کہ ان میں سے 261 کو فضا ہی میں روک دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں