تہران اور واشنگٹن کشیدگی میں اضافہ، ایرانی ردعمل پر مشاورت جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 10 منٹ

ایران نے بدھ کے روز کہا ہے کہ وہ ایک نئے امریکی ردعمل کا جائزہ لے رہا ہے، جو پاکستان کی ثالثی میں جاری ان کوششوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کو ختم کرنا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تہران کے ساتھ مذاکرات "فیصلہ کن موڑ" پر پہنچ چکے ہیں، جہاں یا تو جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ ہوگا یا پھر ایران پر دوبارہ حملے شروع کیے جا سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کے بعد سے متضاد بیانات دیے ہیں کہ انہوں نے فضائی حملے دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ وقتی طور پر مؤخر کیا ہے تاکہ مذاکرات کو موقع دیا جا سکے۔

اس کے بعد وہ کبھی معاہدے کے امکان پر امید ظاہر کرتے رہے اور کبھی کشیدگی بڑھنے کی دھمکی دیتے رہے۔

انہوں نے واشنگٹن کے قریب مشترکہ اڈے اینڈروز پر صحافیوں سے گفتگو میں کہا: یہ واقعی ایک فیصلہ کن موڑ ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر درست جواب نہ ملا تو حالات تیزی سے بگڑ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکی فریق مکمل تیاری کی حالت میں ہیں اور ضروری ہے کہ ایران کی طرف سے 100 فیصد درست اور مکمل جواب ملے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ہونے کی صورت میں بہت سا وقت، توانائی اور جانیں بچائی جا سکتی ہیں، یہ معاہدہ ''بہت جلد، حتیٰ کہ چند دنوں میں'' ممکن ہے۔

دوسری طرف ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں سخت اور تباہ کن ردعمل دیا جائے گا، خاص طور پر اس طرح کے حملوں کے جواب میں جو حالیہ جنگی صورتحال کے دوران دیکھے گئے تھے۔

تاہم اس لفظی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے گرد جاری تناؤ کے باوجود سفارتی رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی میں کوششیں جاری ہیں۔

تہران نے کہا ہے کہ وہ واشنگٹن کی جانب سے بھیجے گئے ایک نئے پیغام کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ بدھ کے روز ایرانی دارالحکومت میں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی سے بھی ملاقات ہوئی، جو ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں ان کی دوسری آمد تھی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ''ہمیں امریکی فریق کی آراء موصول ہوئی ہیں اور ہم ان کا جائزہ لے رہے ہیں۔ پاکستانی وزیر داخلہ کی موجودگی پیغامات کے تبادلے کو آسان بنانے کے لیے ہے ''۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر نئے حملوں کی دھمکی دہرائی تھی، تاہم ساتھ ہی سفارت کاری کے لیے دروازہ بھی کھلا رکھنے کا عندیہ دیا۔

ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔

8 اپریل سے جنگ بندی کے بعد پاکستان کی کوششوں سے دونوں فریقوں کے درمیان رابطے جاری ہیں، تاہم واشنگٹن اور تہران کے مؤقف میں اب بھی واضح اختلافات موجود ہیں، خاص طور پر جوہری پروگرام کے حوالے سے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ امریکہ ممکنہ طور پر دوبارہ جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے ایک آڈیو پیغام میں کہا کہ دشمن کی سرگرمیاں ظاہر کرتی ہیں کہ وہ اب بھی ایران کو دباؤ کے ذریعے جھکانے کے عزائم رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی ممکنہ حملے کا سخت جواب دینے کے لیے تیار ہے۔دوسری جانب اسرائیل نے بھی اپنی فوجی تیاریوں کو اعلیٰ ترین سطح پر رکھا ہے۔

اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے کہا کہ فوج ''انتہائی الرٹ'' ہے اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

ایک اضافی موقع

اس کے برعکس سعودی عرب نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ سفارتی موقع سے فائدہ اٹھائے تاکہ کشیدگی کے خطرناک نتائج سے بچا جا سکے۔ سعودی عرب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا کہ انہوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کو ''ایک اضافی موقع'' دیا ہے، جو نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی معیشت پر اثرانداز ہونے والے تنازع کو روکنے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ مملکت امریکی صدر کے اس اقدام کو سراہتی ہے کہ انہوں نے مذاکرات کو مزید موقع دے کر ایک ایسے معاہدے کی کوشش کی ہے ،جو جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی کی بحالی کا باعث بن سکے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب امید رکھتا ہے کہ ایران اس موقع سے فائدہ اٹھائے گا اور کشیدگی میں اضافے کے خطرناک نتائج سے بچنے کے لیے فوری طور پر مذاکراتی عمل کا حصہ بنے گا، تاکہ ایک جامع معاہدہ طے پا سکے جو خطے اور دنیا میں پائیدار امن کی ضمانت دے۔

ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ایران پر منگل کو ہونے والے ممکنہ حملے کو اس لیے مؤخر کیا ہے کہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں کی درخواست پر مذاکرات کو موقع دیا جا سکے۔

خطے سے بھی کہیں آگے

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جنہوں نے اسلام آباد میں امریکی وفد کی قیادت کی، نے منگل کے روز کہا کہ مذاکرات میں ''اچھی پیش رفت ''ہو رہی ہے، تاہم ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکی فوج جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے ''متبادل آپشن'' کے طور پر مکمل تیار ہے۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو متوقع علاقائی جنگ اس بار ''خطے سے بھی کہیں آگے پھیل جائے گی'' اور ایران کے جوابی حملے ''تباہ کن ''ہوں گے۔

امریکی انتظامیہ کو اس جنگ کے اثرات کے باعث اندرونی سطح پر بھی دباؤ کا سامنا ہے، خصوصاً توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث۔

اسی تناظر میں بدھ کے روز سفارتی حل سے متعلق بیانات کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔

اگرچہ جنگ بندی کے اعلان نے بڑی حد تک فوجی کارروائیاں روک دی ہیں، لیکن آبنائے ہرمز ابھی تک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی، جو جنگ سے قبل عالمی تیل اور مائع گیس کی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزارتی تھی۔

تہران نے جنگ کے آغاز کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ پر عملی کنٹرول سخت کر دیا ہے، جبکہ امریکہ نے اس کے جواب میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھی ہے۔

امریکی فوج کے مطابق بحریہ نے بدھ کے روز ایرانی پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو روکا، اس کی تلاشی لی اور بعد ازاں اسے جانے کی اجازت دیتے ہوئے اس کا راستہ تبدیل کرنے کی ہدایت کی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آج دن کے وقت خلیجِ عمان میں امریکی میرینز کے اہلکاروں نے ایک تجارتی جہاز پر سوار ہو کر کارروائی کی۔

یہ جہاز ''ایم/ٹی سیلیسٹیل سی'' تھا، جو ایرانی پرچم بردار آئل ٹینکر ہے، اس پر یہ شبہ ظاہر کیا گیا کہ وہ امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایرانی بندرگاہ کی طرف جا رہا تھا۔

بیان کے مطابق تلاشی کے بعد امریکی فورسز نے جہاز کو چھوڑ دیا اور اس کے عملے کو راستہ تبدیل کرنے کی ہدایت کی گئی۔

سینٹکام نے یہ بھی کہا کہ اب تک 91 تجارتی جہازوں کو دوبارہ مخصوص راستوں پر لایا یا ان کا رخ تبدیل کرایا جا چکا ہے تاکہ ایران پر عائد پابندیوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 25 سے زائد بحری جہازوں، جن میں آئل ٹینکرز بھی شامل ہیں، کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں اور تیل کی سپلائی کے حوالے سے شدید تشویش کا باعث بن رہی ہے، کیونکہ اس راستے سے دنیا کی توانائی تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ راستہ طویل عرصے تک بند رہا تو زرعی اور خوراک کے شعبے میں ایک بڑا بحران پیدا ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں 6 سے 12 ماہ کے دوران عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔

ادارے نے متبادل تجارتی راستوں کی تیاری، برآمدی پابندیوں میں نرمی، انسانی امداد کی ترسیل کے تحفظ اور ذخائر بڑھانے کی سفارش کی ہے تاکہ بڑھتے ہوئے ٹرانسپورٹ اخراجات کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے نے دنیا بھر کی معیشتوں پر دباؤ ڈال دیا ہے، جس کے اثرات کئی ممالک میں ظاہر ہو رہے ہیں۔
اس کی تازہ مثال کینیا ہے جہاں ٹرانسپورٹ کا نظام تقریباً مفلوج ہو گیا اور پرتشدد واقعات میں چار افراد ہلاک اور تیس زخمی ہوئےہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں