ایران نے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے انکار کیا تو متبادل منصوبہ تیار کرنا ہوگا: روبیو

مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی، ابھی تک کوئی حتمی نتیجہ حاصل نہیں ہو سکا: ایرانی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایک طرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان نقطہ ہائے نظر کو قریب لانے کے لیے پاکستانی کوششیں جاری ہیں تو دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ہر کوئی ایران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کا خواہشمند ہے، تاہم تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے انکار کی صورت میں ایک متبادل منصوبہ ہونا ضروری ہے۔

مارکو روبیو نے سویڈن کے شہر ہیلسنگبرگ میں نیٹو کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے دوران ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچنے کا خواہشمند ہے۔ ایران کے ساتھ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے لیکن انہوں نے کہا کہ ابھی تک کوئی حتمی نتیجہ حاصل نہیں ہو سکا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ایران اپنے جوہری عزائم سے دستبردار ہو جائے ۔ امریکہ مشرق وسطیٰ میں تنازع کے دائرہ کار کو پھیلانا نہیں چاہتا۔

پاکستان بنیادی ثالث

مارکو روبیو نے کہا کہ پاکستان ایران مذاکرات میں بنیادی ثالث ہے۔ ہم ایران کے معاملے پر کئی ملکوں کے ساتھ ہم آہنگی کر رہے ہیں لیکن اسلام آباد مذاکرات میں بنیادی ثالث ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے شمالی اوقیانوس کے معاہدے کی تنظیم (نیٹو) سے مدد کی کوئی مخصوص درخواست نہیں کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم یورپ میں اپنی افواج کی موجودگی کا مسلسل ازسرنو جائزہ لیتے رہتے ہیں۔

دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی شدت سے ایک معاہدے تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے دوران ایک تقریر میں یہ بھی کہا کہ ہم ایران میں وہی کر رہے ہیں جو ہم نے وینزویلا میں کیا تھا۔

اچھے اشارے

امریکی وزیر نے گزشتہ روز جمعرات کو ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کے بارے میں محتاط رجائیت کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے سویڈن میں نیٹو کے اجلاس میں شرکت کے لیے روانگی سے قبل کہا تھا کہ اچھے اشارے موجود ہیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکراتی تصفیے کو ترجیح دیتے ہیں۔

واضح رہے تہران نے اس ہفتے امریکہ کو ایک نئی تجویز پیش کی تھی لیکن اس کے مواد کے بارے میں جو کچھ عوامی طور پر کہا، وہ ان شرائط کا اعادہ تھا جنہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔ اس میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول، جنگی نقصانات کا معاوضہ ادا کرنا، تمام امریکی پابندیوں کو ختم کرنا اور بیرون ملک منجمد تمام ایرانی اثاثوں اور فنڈز کو رہا کرنا شامل ہے۔

پاکستانی ثالث نے چند روز قبل اس تجویز پر امریکی جواب تہران کے حوالے کیا تھا جس نے کل اعلان کیا تھا کہ وہ اس کا مطالعہ کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں