اسرائیل کے دائیں بازو کے انتہا پسند وزیرِ برائے داخلی سلامتی ایتمار بن گویر نے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان اعلانیہ سیزن فائر کے باوجود لبنان میں دوبارہ "شدید" لڑائی شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔
ایتمار بن گویر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر اپنی ایک پوسٹ میں کہاکہ "اب وقت آ گیا ہے کہ وزیرِ اعظم ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے ایک مضبوط موقف اپنائیں اور انہیں بتائیں کہ اسرائیل لبنان میں دوبارہ جنگ شروع کرنے جا رہا ہے"۔
انہوں نے مزید کہاکہ "لبنان کی بجلی کاٹ دی جانی چاہیے، دریائے زہرانی پر قبضہ کر لیا جانا چاہیے اور شدید لڑائی دوبارہ شروع ہونی چاہیے"، ان کا اشارہ جنوبی لبنان میں واقع ایک دریا کی طرف تھا جو اسرائیل کے ساتھ لبنانی سرحد سے تقریباً 40 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔
خیال رہے کہ لبنان فروری کے مہینے میں ایران پر امریکی اسرائیلی حملے کے پس منظر میں دو مارچ کو مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں گھسیٹ لیا گیا تھا۔
اگرچہ 17 اپریل سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان سیزن فائر نافذ العمل ہے، لیکن اسرائیل نے اپنے ان حملوں کو جاری رکھا ہوا ہے جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ حزب اللہ اور اس کی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ اس کی افواج جنوبی لبنان میں دیہاتوں پر قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہیں اور وہاں گھروں اور عمارتوں کو مسمار کرنے اور دھماکوں سے اڑانے کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں سرحد سے تقریباً 10 کلومیٹر شمال میں ایک "پیلی لائن" قائم کرنے کا اعلان کیا ہے اور کسی بھی شخص کے وہاں جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے علاوہ دشمن کی جانب سے خالی کرنے کی ان تنبیہات نے، جن میں سرحد سے درجنوں کلومیٹر دور واقع قصبے بھی شامل ہیں، بہت سے علاقوں کو ان کے باشندوں سے خالی کرانے پر مجبور کر دیا ہے۔