ایک لبنانی فوجی ذریعے کے مطابق جمعرات کے روز ایک اسرائیلی فضائی حملے نے بیروت کے جنوب میں واقع شویفات کے علاقے میں ایک اپارٹمنٹ کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان کی جانب سے بیروت کے علاقے میں ایک حملے کی تصدیق کے بعد سامنے آئی ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے بتایا ہے کہ بیروت حملے میں حزب اللہ تنظیم کے میزائل یونٹ کے سربراہ علی الحسینی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
إعلام إسرائيلي: المستهدف بغارة بيروت هو علي الحسيني قائد وحدة الصواريخ بحزب الله pic.twitter.com/QibCPoCpz2
— العربية (@AlArabiya) May 28, 2026
یاد رہے کہ17 اپریل کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے یہ دوسرا موقع ہے جب اسرائیل نے بیروت کے جنوبی حصے کو نشانہ بنایا ہے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیل اس کی خلاف ورزی کے حوالے سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں اور یہ جنگ بندی بالخصوص جنوبی لبنان میں بمباری، فضائی حملوں اور جھڑپوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔
نشانہ بننے والی جگہ سے براہ راست نشریات میں حملے کے بعد دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا۔ اس کے بارے میں اسرائیلی فوجی ذرائع نے بتایا کہ اس نے بیروت کے جنوب میں حزب اللہ کے گڑھ، بیروت کے جنوبی مضافات (ضاحیہ) کے قریب شویفات کے علاقے میں ایک اپارٹمنٹ کو نشانہ بنایا۔
یہ فضائی حملے 17 اپریل سے نافذ العمل جنگ بندی کے باوجود ہو رہے ہیں، جو اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان بمباری، فضائی حملوں اور جھڑپوں کو روکنے کے سلسلے میں زمین پر زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہو سکی ہے۔