امریکی پینٹاگون نے جمعہ کے روز اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کے نئے مرحلے کے پہلے دور کی میزبانی کی ہے۔ یہ پہلا دور اس کے باوجود ممکن بنایا گیا ہے کہ اسرائیل نے جمعہ کے روز بھی لبنان کے اندر تک بمباری کی ہے اور اسرائیلی فوج کے مطابق حزب اللہ کے اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
لبنانی مسلح افواج کی نمائندگی ملٹری آپریشنز کے سربراہ نے کی۔ جبکہ اسرائیل کی جانب سے ملٹری آپریشنز کے بجائے ملٹری سٹریٹجیز ڈویژن کے اعلیٰ عہدے دار کے زیر قیادت وفود نے مذاکرات میں شرکت کی۔
فریقین کے درمیان براہ راست مذاکرات کا یہ پہلا دور تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ان کے درمیان مذاکرات کے لیے کوششوں کا آغاز کچھ عرصہ پہلے ہی ممکن بنایا تھا۔ اس سلسلے میں دونوں ملکوں کے واشنگٹن میں موجود سفیروں کے درمیان بھی ملاقات ہو چکی ہے۔
اس پس منظر میں فریقین نے اپنے حالیہ مذاکراتی دور میں اتفاق کیا تھا کہ دونوں اطراف سیاسی پیش رفت کرتے ہوئے فوجی حکام کے درمیان رابطوں کے لیے ایک چینل بنایا جائے گا۔
جمعہ کے روز فوجی وفود کے درمیان ہونے والے مذاکرات اسی سلسلہ کی پیش رفت کا نتیجہ تھے۔ اب توقع کی جا رہی ہے کہ اسرائیل اور لبنان سیاسی مذاکرات کا چوتھا دور آنے والے دنوں میں ممکن ہو جائے گا۔ امکانی طور پر یہ چوتھا دور بھی واشنگٹن میں ہوگا۔
اسی دوران اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اسرائیلی فوج لبنان کے اندر تک اپنے قبضے کو بڑھا رہی ہے۔ جیسا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی دریائے لیطانی کے آگے تک اسرائیلی فوجی پیش قدمی کی تصدیق کی ہے۔
واشنگٹن میں اسرائیلی و لبنانی فوج کے وفود کے درمیان بات چیت کے بعد لبنانی صدر جوزف عون اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی باہم فون پر تبادلہ خیال کیا ہے۔