اسرائیل کا بیروت کے جنوبی مضافات کے رہائشیوں کو انتباہ، علاقہ خالی کرنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی مضافات کے رہائشیوں کو انتباہ جاری کرتے ہوئے انہیں اپنے گھر خالی کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائی ادرعی نے آج پیر کے روز اپنے "ایکس" اکاؤنٹ پر شائع ایک بیان میں جنوبی مضافات کے علاقے کے رہائشیوں پر زور دیا کہ "وہ اپنی حفاظت کے پیش نظر وہاں سے نکل جائیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "اگر حزب اللہ تنظیم نے اسرائیل کے شہروں اور قصبوں کی جانب راکٹ حملے جاری رکھے تو فوج جنوبی مضافات میں اہداف کو نشانہ بنا کر جواب دے گی۔"

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "اسرائیل لبنانی عوام سے نہیں بلکہ حزب اللہ تنظیم سے لڑ رہا ہے۔"

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے لبنان کے لیے اپنی تنبیہات کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ "اگر اسرائیل کے شمال میں امن قائم نہیں ہوا تو بیروت میں بھی امن نہیں رہے گا۔" انہوں نے زور دیا کہ بیروت میں حزب اللہ کے کمانڈ سینٹرز ہدف سے باہر نہیں رہیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا ملک دریائے لیطانی کے علاقے کو فوجی سکیورٹی کنٹرول میں لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی اسی موقف کی تائید کرتے ہوئے اعلان کیا کہ انہوں نے جنوبی مضافات کو نشانہ بنانے کے احکامات دے دیے ہیں۔

لبنانی دارالحکومت میں جنوبی مضافات اور اس سے ملحقہ علاقے الشیاح سے "محفوظ" علاقوں کی جانب نقل مکانی کی شدید لہر دیکھی گئی ہے۔

اس کے ساتھ ہی ایک اسرائیلی فوجی ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ تل ابیب جنوبی مضافات اور مشرقی لبنان کی وادی بقاع میں حزب اللہ کے اہداف کا جائزہ لے رہی ہے۔

دیگر اسرائیلی ذرائع نے بھی اشارہ کیا ہے کہ نیتن یاہو کا یہ موقف امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد سامنے آیا ہے، جبکہ اس بارے میں بھی بات چیت ہو رہی ہے کہ "کشیدگی کم کرنے" کے لیے امریکی سفارتی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔

اسرائیل نے آج اس سے قبل جنوب کے تقریباً 16 قصبوں کو انتباہ جاری کرتے ہوئے ان کے رہائشیوں سے انخلاء کا مطالبہ کیا تھا۔

دریں اثنا حزب اللہ نے جنوب میں اسرائیلی فوجیوں اور "شمالی اسرائیل" کے علاقے جلیل کی جانب ڈرون اور میزائل داغنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

واضح رہے کہ امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی کا ایک معاہدہ 17 اپریل کو نافذ ہوا تھا، تاہم دونوں فریقوں کی جانب سے تصادم جاری رہا۔

رواں سال2 مارچ کو حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان تصادم شروع ہونے کے بعد سے، جب حزب اللہ نے سابق ایرانی رہبر علی خامنہ ای کے قتل کے جواب میں شمالی اسرائیل کی طرف ڈرون بھیجے تھے، اسرائیلی فوج نے لبنان کے مختلف علاقوں میں شدید فضائی حملے کیے ہیں۔

لبنانی سرکاری اندازوں کے مطابق ان جھڑپوں کے نتیجے میں تقریباً 3400 لبنانی جاں بحق اور 10 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ جنوب لبنان، بیروت کے جنوبی مضافات اور وادی بقاع سے تقریباً دس لاکھ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں