’عبدربہ منصور ھادی مرحوم یمن کے تحفظ میں سعودی عرب کے شراکت دار تھے‘

سعودی عرب کی جانب سے سابق یمنی صدر کی وفات پر یمنی قوم اور خاندان سے اظہار تعزیت، ان کی تاریخی سیاسی خدمات کی تحسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

گذشتہ ہفتے سعودی دارالحکومت ریاض میں وفات پانے والے سابق آنجہانی یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی یمن کی تعمیر اور اس کے تحفظ میں مملکت کے ایک بنیادی شراکت دار اور انصار اللہ "حوثی" گروپ کی بغاوت کے خلاف آئینی اور قانونی مزاحمت کار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

سابق مرحوم صدر کو اقتدار سنبھالنے کے پہلے ہی لمحے سے سعودی عرب کی بھرپور سیاسی حمایت اور سرپرستی حاصل رہی، جو سنہ 2012ء میں خلیجی اقدام پر عمل درآمد اور علی عبداللہ صالح کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد عبوری مرحلے کے لیے ایک متفقہ صدر کے طور پر سامنے آئے۔

حوثی بغاوت اور ریاض روانگی

تاریخی طور پر حوثی گروپ نے سنہ 2014ء میں یمنی دارالحکومت صنعاء پر اپنا قبضہ جما لیا تھا، جس کے باعث صدر ہادی کو یمنی سرزمین خصوصاً ملک کے جنوب میں واقع شہر عدن سے نکل کر سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض جانا پڑا، جہاں وہ طویل عرصے تک مقیم رہے اور وہیں سے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ صدر کے طور پر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔

سنہ 2015ء کی پکار

مارچ سنہ 2015ء کے آغاز سے سیاسی حالات کے انتہائی خراب اور ابتر ہونے کے بعد صدر ہادی نے ایک سرکاری اپیل کے ذریعے سعودی عرب سے فوجی مداخلت کی درخواست کی۔ ریاض نے اس وقت ان کی درخواست کو انتہائی سنجیدگی سے لیا اور آئینی حکومت کی بحالی کے لیے ایک فوجی اتحاد تشکیل دیا جسے "عاصمہ الحزم" (فیصلہ کن طوفان) کا نام دیا گیا۔

ریاض اور ہادی کے تعلقات

یمن میں بھڑکنے والی جنگ کے برسوں کے دوران ہادی کی قیادت میں وہاں کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کا زیادہ تر انحصار سعودی عرب پر تھا، جس نے سیاسی، فوجی اور اقتصادی مدد فراہم کرنے میں کبھی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ اس مہم نے سعودی قیادت کے ساتھ ان کے گہرے تعلقات کی تعمیر میں بڑا راستہ کھولا تاکہ یمنی فائل پر اس کے وسیع تر مثبت اثرات مرتب ہو سکیں۔

ایرانی پھیلاؤ کا مقابلہ

صدر عبد ربہ منصور ہادی کے لیے سعودی عرب کی سرپرستی نے اس حقیقت کو بھی مضبوط کیا کہ اس کی جنوبی سرحدوں پر ایرانی اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں کا مقابلہ کیا جائے اور یمن کو سعودی قومی سکیورٹی اور بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرہ بننے والے پلیٹ فارم میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔

قیادت کے اختیارات کی منتقلی

مرحوم صدر کی زندگی کی تفصیلات میں جائیں تو کئی نمایاں پہلو سامنے آتے ہیں۔ مثال کے طور پر سنہ 2022ء میں ہادی نے اندرونی تقسیم کو ختم کرنے اور یمنی اقتدار کی ازسرنو تنظیم کے لیے سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے تعاون سے طے پانے والے سیاسی انتظامات کے تحت اپنے اختیارات صدارتی قیادت کونسل کو منتقل کر دیے تھے۔

اقتدار سے علیحدگی

اسی تناظر میں بعض مبصرین عبد ربہ منصور ہادی کی اقتدار سے علیحدگی کو صدارتی نرگسیت سے دوری کے خانے میں رکھتے ہیں، جنہوں نے اپنے ذاتی سیاسی مفادات اور فائدے پر یمن کے مفاد، اس کی تعمیر کی جدوجہد اور دوسروں کو موقع فراہم کرنے کو ترجیح دی۔

یمنیوں کی نظر میں صدر کی شخصیت

بہت سے یمنی باشندوں کے لیے منصورھادی کی شخصیت ایک انتہائی پیچیدہ عبوری مرحلے سے جڑی ہوئی ہے، جس کے دوران انہوں نے ریاستی اداروں کی تباہی اور جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کے سائے میں پیچیدہ اندرونی اور علاقائی توازن کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ جہاں کچھ لوگ انہیں ایک ایسا صدر سمجھتے ہیں جنہوں نے یمنی ریاست کی صلاحیتوں سے بڑھ کر غیر معمولی حالات کا سامنا کیا، وہیں کچھ لوگ اس مرحلے میں ہونے والی ناکامیوں کی ذمہ داری بھی ان پر عائد کرتے ہیں، تاہم وہ حالیہ دہائیوں میں یمن کی جدید تاریخ اور اس کی سیاسی و عسکری تبدیلیوں سے وابستہ نمایاں ترین ناموں میں سے ایک ہیں۔

سابق صدر کے موقف کی سعودی عرب کی طرف سے تحسین

دوسری طرف گذشتہ ہفتے صدر عبد ربہ منصور ہادی اس دار فانی سے کوچ کر گئے تو سعودی قیادت نے تعزیت کے باضابطہ بیانات جاری کیے۔ سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور محمد بن سلمان کی طرف سے ان کے خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا جبکہ سعودی عرب نے ان کے موقف اور یمن کی سکیورٹی اور استحکام کے لیے ان کے جذبے کو سراہا۔

ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے مرحوم کے لواحقین سے تعزیت کی۔ یہ ایک ایسا موقف ہے جو ہادی کے بارے میں سعودی عرب کے نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ حوثیوں کے ساتھ جنگ کے مرحلے کے دوران یمن کے آئینی صدر تھے اور یہ اس بات کا تسلسل ہے کہ مملکت اس پورے عرصے میں سیاسی اور فوجی سطح پر یمن کی سب سے بڑی علاقائی حامی رہی ہے۔

بحران کے انتظام میں شراکت دار

یمن کے تاریخی تسلسل پر نظر ڈالنے سے، خصوصاً جو مرحوم صدر سے وابستہ ہے، یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب کے لیے ہادی کی اہمیت محض ان کی ذات کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ ان کے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ صدر کے منصب اور جنگ کے برسوں کے دوران یمنی بحران کے انتظام میں ایک اہم شراکت دار ہونے کی وجہ سے تھی۔ وہ خلیجی اقدام اور نیشنل ڈائیلاگ کے نتائج پر عمل درآمد کے لیے سنگ بنیاد تھے، جس نے اقتدار کی پرامن منتقلی کو ممکن بنایا اور یمن کو ایک ہمہ گیر خانہ جنگی میں گرنے سے روکا، اسی لیے وہ اس مرحلے میں یمن کے حوالے سے سعودی سیاست کا ایک بنیادی ستون تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size