ایران میں جنگ 100ویں روز میں داخل ، مذاکرات میں پیش رفت کے کوئی آثار نہیں

پاکستان کی سیاسی نقل و حرکت جس کی آخری کڑی مرشد کو اہم پیغام پہنچانا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران میں جنگ کو آج اتوار کے روز سو دن مکمل ہو چکے ہیں۔ اس دوران واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فائرنگ کے تبادلے کے سائے میں مذاکرات جمود کا شکار ہیں۔

پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی جن کا ملک اس جنگ میں فریقین کے درمیان ثالثی کر رہا ہے، نے آج اتوار کے روز تہران میں حکام کو اسلام آباد کی جانب سے ایرانی قیادت کے لیے ایک پیغام پہنچایا۔

ایک سفارتی ذریعے نے العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی ایران کے لیے امریکہ کی جانب سے پابندیاں نرم کرنے کی منظوری سے متعلق پیغام لے کر گئے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی گذشتہ روز ہفتے کو ایران کے دارالحکومت تہران پہنچے تھے، جہاں ان کا استقبال ان کے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی نے کیا۔

اس سے متعلق ایک معاملے میں روئٹرز ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ امریکہ ایران کے اثاثوں کو خلیج میں تہران کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کی بحالی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے گا۔ ذریعے نے مزید کہا کہ واشنگٹن ان اثاثوں کو مستقبل کے کسی بھی نقصان کی اصلاح میں معاونت کے لیے استعمال کرنے کے امکان پر بھی غور کر رہا ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ خلیج میں اتحادیوں کو ایران کی جانب سے پہنچائے گئے نقصانات کے تخمینے کا جائزہ لے۔

اس سفارتی پیش رفت کے دوران امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا کہ اس کی افواج نے گذشتہ روز ہفتے کو دو ایرانی ڈرونز مار گرائے، جو آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری جہاز رانی کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے۔ کمانڈ نے مزید کہا کہ امریکی افواج کسی بھی ایرانی حملے کے خلاف دفاع جاری رکھنے کے لیے ہائی الرٹ اور تیار ہیں۔

آٹھ اپریل سے جنگ بندی کے بعد سے امریکہ اور ایران پاکستانی ثالثی میں مذاکرات کر رہے ہیں، جو جوابی دھمکیوں اور وقفے وقفے سے ہونے والی عسکری جھڑپوں کے باوجود اب تک کسی ایسے سمجھوتے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں جو اس جنگ کا خاتمہ کر سکے، جس کا آغاز واشنگٹن اور اسرائیل نے اٹھائیس فروری کو اسلامی جمہوریہ کے خلاف کیا تھا۔ تہران نے جنگ کے آغاز سے ہی آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے، جبکہ واشنگٹن کئی ہفتوں سے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی کیے ہوئے ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر کے عسکری مشیر محسن رضائی نے جمعہ کو امریکی نیٹ ورک سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ معاہدے تک پہنچنا چاہتے ہیں تو امریکی پابندیوں کے تحت منجمد ایرانی اثاثوں میں سے 24 ارب ڈالر جاری کریں۔

اگرچہ متعلقہ فریقین کا یہ دعویٰ ہے کہ مذاکرات میں حالیہ عرصے میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم واشنگٹن اور تہران کے درمیان کئی نکات پر اختلاف برقرار ہے، جن میں آبنائے ہرمز کا معاملہ، ایران کا جوہری پروگرام اور اسرائیل کا ایران کے حلیف حزب اللہ کے خلاف لبنان میں جنگ جاری رکھنا شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں