بیروت میں تعینات امریکی سفیر مشل عیسیٰ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری مذاکرات کے تسلسل کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل لبنانی عوام کی مشکلات کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوگا۔
لبنانی صدر جوزف عون سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے امریکی سفیر مشل عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے لبنانی۔امریکی۔اسرائیلی مذاکرات کے عمل اور اس کے ذریعے لبنان میں جاری موجودہ صورتحال کے خاتمے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا اگلا دور واشنگٹن میں منعقد ہوگااور میں لبنانی مذاکراتی ٹیم کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کرتا ہوں جو لبنانی فائل پر انتہائی واضح اور دو ٹوک موقف رکھتی ہے۔
امریکی سفیر نے مزید کہا کہ ہم لبنان کے معاملے کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ مستقل لبنان کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ یہ ایک اہم عنصر ہے جسے لبنانیوں کو مدنظر رکھنا چاہیے کیونکہ امریکی صدر روزانہ کی بنیاد پر لبنانی صورتحال کو مانیٹر کر رہے ہیں۔ خاص طور پر اس لیے کہ صدر عون نے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا ہے، جس کی ہم حمایت کرتے ہیں اور یہ راستہ لبنانی عوام کی تکالیف ختم کرنے میں ہماری مدد کر رہا ہے۔
امریکی سفیر نے کہا کہ ہم مذاکرات کے ایسے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ برف پگھل چکی ہے اور ہم لبنان کو بحران سے نکالنے میں مدد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے صدر عون کے سامنے ان موقف کی تعریف کی ہے جو انہوں نے چند روز قبل ایک انٹرویو میں ظاہر کیے تھے۔
امریکی سفیر نے صدر عون کے ساتھ اپنی ملاقات کو اچھا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اچھی ملاقات وہ ہے جس کے نتیجے میں مثبت پیش رفت سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں وقت لگ سکتا ہے کیونکہ یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ تمام مسائل ایک ہی نشست میں حل ہو جائیں، تاہم ان مذاکرات کا جاری رہنا لبنان اور خطے کی مجموعی صورتحال پر مثبت اثر ڈالے گا۔
دوسری جانب لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے امریکی سفیر سے ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا کہ لبنان کی جانب سے ریاست لبنان کے سوا کوئی اور مذاکرات نہیں کرے گا۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے لبنان پر اثرات کے ساتھ ساتھ واشنگٹن میں مذاکرات کے اگلے دور کی تیاریوں پر بات چیت کی گئی۔
واضح رہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ 14 اپریل سنہ 2024ء کو امریکی محکمہ خارجہ میں شروع ہوا تھا، جس کا اگلا دور 22 اپریل کو دوبارہ شروع ہونا طے پایا تھا۔ مذاکرات کے چوتھے دور کے اختتام پر لبنان، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں فریقین کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق کا اعلان کیا گیا تھا۔ یہ جنگ بندی حزب اللہ کی جانب سے مکمل فائر بندی اور دریائے لیطانی کے جنوب کے علاقے سے تمام عسکری ونگ کے عناصر کے انخلا پر منحصر ہے۔
-
اسرائیل کا لبنان سے داغے گئے دو میزائل روکنے کا اعلان
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے لبنان سے اسرائیل کی جانب داغے گئے دو میزائل روک ...
مشرق وسطی -
اسرائیلی فوج: 48 گھنٹے میں جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے 150 مقامات کو نشانہ بنایا
اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ گذشتہ دو دنوں کے دوران جنوبی لبنان میں حزب ...
مشرق وسطی -
اسرائیل نے جنگ بندی کے دوران ہماری سرزمین پر 3500 بار بم باری کی : لبنان
لبنانی وزیر دفاع کے مطابق اسرائیل نے 407 مسماری کی کارروائیاں اور 6 ایسی بلڈوزنگ ...
مشرق وسطی